سورة آل عمران - آیت 4

مِن قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَأَنزَلَ الْفُرْقَانَ ۗ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اس سے پہلے، لوگوں کی ہدایت کے لیے۔ اور اس نے (حق و باطل میں) فرق کرنے والی (کتاب) اتاری، بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

1: یہاں قرآن کریم نے لفظ فرقان استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو، قرآن کریم کا ایک نام فرقان بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے ؛ چنانچہ بعض مفسرین نہ یہاں فرقان سے قرآن ہی مراد لیا ہے، دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد معجزات ہیں جو انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا، نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔