سورة المؤمنون - آیت 23

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ أَفَلَا تَتَّقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلاشبہ یقیناً ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟

تفسیر ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

آیت (٢٣) سے اقوام ماضیہ کی سرگزشتوں کا جو بیان شروع ہوا ہے وہ تمام تر مجمل اشارات پر مشتمل ہے۔ کیونکہ یہاں یہ موعظت مقصود بالذات نہیں ہے۔ پچھلی دو موعظتوں کو دلائل قصس سے مزید تقویت دینی ہے۔ چونکہ گزشتہ دعوتوں کا تزکرہ ہر جگہ حضرت نوح کی دعوت سے شروع کیا گیا ہے اور حضرت مسیح کی دعوت پر ختم ہوجاتا ہے اس لیے یہاں بھی ابتدا دعوت نوحی ہی سے ہوئی اور حضرت مسیح کے تذکرہ پر ختم ہوگئی۔ درمیان میں جو دعوتیں اور قومیں گزریں ان کی طرف صرف اجمالی اشارہ کردیا گیا، البتہ موسیٰ کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا گیا۔ کیونکہ ان سے سلسلہ دعوت کے ایک نئے دور کی ابتدا ہوئی تھی۔ ایک صورت حال یہ ہے کہ افراد انسانی پیدا ہوں اور آباد ہوں، ایک یہ ہے کہ ان کی جماعتی زندگی اور اس کی مدنی خصوصیات اس طرح ابھریں اور عروج تک پہنچیں کہ ایک خاص قومی عہد پیدا ہوجائے۔ عربی میں دوسری حالت کو کسی قوم و ملک کے قرب سے تعبیر کریں گے، یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جابجا قرن اور قرون کا لفظ اختیار کیا ہے، یعنی صرف قوموں کا پیدا ہونا اور آبادیوں میں بسنا ہی نہیں بلکہ قومی عروج و اقبال کے دور اور عہد، ہمارے مترجموں اور عام مفسروں نے اس پہلو پر غور نہیں کیا، وہ قرن اور قرون کا مطلب ادا کرنے کے لیے صرف قوم و اقوام کے الفاظ پر قناعت کرلیتے ہیں۔ منکرین ھق کے یہاں جو عقائد و اقوال نقل کیے ہیں ان پر غور کرو، یہ گویا تمام منکرین رسالت کا وجوہ انکار و اعراض کا خلاصہ ہے اور سب کا مشترک اور متفقہ مسلک، کیونکہ یہاں کسی خاص دعوت اور اس کے منکروں ہی کا ذکر نہیں ہورہا ہے بلکہ ان سب کا جنہوں نے حضرت نوح کے بعد اپنے اپنے وقتوں اور اپنے اپنے ملکوں میں دعوت وحی سے روگرانی کی، یہ انکار دو باتوں پر مشتمل ہے، ایک یہ کہ ہماری طرح کا ایک آدمی جو ہماری ہی طرح کھاتا پیتا ہو خدا کی سچائی کا پیام بر کیسے ہوسکتا ہے۔ دوسری یہ کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اور عذاب و ثواب کا پیش آنا نہایت ہی عجیب بات ہے۔ ایسی بات کیونکر مانی جاسکتی ہے۔ حضرت نوح کے بعد قوم نشاۃ کے جس عہد کا کیا ہے یہ غالبا قوم عاد و ثمود کا عہد تھا۔ کیونکہ دوسری جگہ انہیں قوم نوح کا جانشین کہا ہے، پھر ان کے بعد جن قرون کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے مقصود وہ بے شمار قومیں ہیں جو حضرت موسیٰ کے ظہور سے پہلے گزری ہیں اور جن کی نسبت سورۃ ابراہیم کی آیت (٩) میں گزر چکا ہے کہ (والذین من بعدھم لا یعلمھن الا اللہ)