سورة البقرة - آیت 78

وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان میں سے کچھ ان پڑھ ہیں، جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے چند آرزوؤں کے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ گمان کرتے ہیں۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ٢) جاہل یہودی صرف عقائد پر قانع تھے ، ہر قسم کی بےعملی کے باوجود انہیں اپنی نجات کا یقین تھا ، فرمایا یہ محض ایک خوش کن امید ہے جو کبھی شرمندہ عمل نہ ہوگی ، نجات کے لئے عمل کی ضرورت ہے ، بتائے ہوئے قوانین پر چلنا ضروری ہے ، صرف خوش اعتقادی کافی نہیں ۔ حل لغات : یحرفون : تحریف سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بدلنے کے ، ایک بات کی جگہ دوسری بات کہنے کے ، فتح ، مصدر فتح کھولنا ، مگر فتح اللہ علیہ کے معنی ہوتے ہیں ، خدا نے اسے بتایا ۔ امیون : جمع امی ، ان پڑھ یعنی ابتدائی حالت میں ، جس حالت میں کہ اس کی ماں نے اسے پیدا کیا ۔ امانی : جمع امنیۃ ، بمعنی خواہش ، اندازہ اور پڑھنا ۔