سورة الفجر - آیت 30

وَادْخُلِي جَنَّتِي

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ف 1: وہاں نصیحت اور عبرت بالکل بےکار اور عبث ہوگی کہ وہ مقام مقام احتساب ہے ، مقام تذکیر وعمل نہیں ۔ اس کے بعد اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی روح دنیا میں بھی بلندرہتی ہے اور طمع اور آلودگیوں سے ملوث نہیں ہوتی ۔ اور باوجود اس کے کہ افلاس اور معصیت کے طوفان اٹھتے ہیں ۔ مگر ان کا نفس اطمینان کے جس نشیمن پر متمکن ہوتا ہے ، وہاں سے نیچے نہیں اترتا ۔ ان مطمئن نفوس کو کہا جائے گا کہ جاؤ تمہارے لئے مقام رضا وخوشنودی ہے ۔ تم میرے بندوں میں داخل ہوجاؤ اور میری جنت میں رہو بسو ۔ فادخلی فی عبدی سے غرض یہ ہے کہ انسان بلند ترین مقامات پر پہنچنے کے بعد بھی دائرہ عبودیت سے نہیں نکلتا اور روحانیت کے انتہائی ارتقاء میں بھی اس کا چاکر اور غلام ہی رہتا ہے *۔