سورة الأنبياء - آیت 25

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ فطرت کی آواز کیا ہے ؟ وہ کون سا پیغام ہے جس کوتمام انبیاء نے مشترکہ طور پر پیش کیا ، وہ کون سی دعوت ہے جس کو سب پیغمبروں نے متحدہ شکل میں ظاہر کیا ، وہ ایک خدا کی پرستش اور عبادت ہے ، آدم (علیہ السلام) سے جناب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک سب لوگوں نے اس روشن حقیقت کو نمایاں کیا ، کہ خدا ایک ہے مالک وآقا ایک ہے محبوب ودوست ایک ہے اور وہ ذات ذی الجلال ایک ہے ، جس کے سامنے جھکنا چاہئے ۔ غور فرمائیے کس قدر صحیح ، روشن اور عملی تعلیم ہے ، ایک خدا کی پرستش کے معنی یہ ہیں ، کہ تمام کائنات کو اپنے قدموں پر جھکا لیا جائے ، اور بجز خدا کی کبریائی اور جلال کے اور کسی کی عظمت کا اعتراف نہ کیا جائے خدا کو ایک ماننے کے یہ معنے ہیں کہ ایک خدا کو تو حاکم مطلق جانو ، اور باقی دنیا کی ہر چیز اور ہر قوت کو محکوم سمجھو ، خدا کو تو حاکم مطلق جانو ، اور باقی دنیا کی ہر چیز اور ہر قوت کو محکوم سمجھو ، خدا کو ایک ماننے کے عقیدہ میں انسانی شرف ومجد کا راز پہناں ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم اس عقیدہ کو بار بار مختلف پہلوؤں سے ذکر فرماتا ہے ، اور کہتا ہے کہ لوگو ! شرک کی ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکلو ، اور توحید کی وادیوں میں قدم زن ہوجاؤ ، یہاں نور برکت اور عزت شرف کے چشمے بہتے ہیں ، مگر مشرکین ہیں کہ ان کے دلوں کی تاریکی انہیں اس روشن حقیقت کو دیکھنے نہیں دیتی ، وہ زندہ اور حی وقیوم خدا کو چھوڑ کر پتھروں کے سامنے جھکتے ہیں ، وہ انسان اور افضل اپنی بزرگی وعظمت کی توہین کرتے ہیں ۔