سورة مريم - آیت 71

وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور تم میں سے جو بھی ہے اس پر وارد ہونے والا ہے۔ یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ٢) اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے تاویل کے تین پہلو اختیار کئے ہیں ۔ ١۔ اس سے مراد کفار ہیں ، جیسا کہ سیاق وسباق کا تقاضا ہے یعنی وہ لوگ جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں چلا آ رہا ہے کہ انہیں موت کے بعد اٹھایا جائے گا ، اور مکافات عمل کے اصول کے مطابق مناسب وموزوں سزا دی جائے گی ، سابقہ آیات اور اس میں صرف انداز بیان کا فرق ہے اس آیتوں میں تمام صیغے غائب کے ہیں ، اور اس آیت میں صیغہ خطاب کا ہے ، اور محض یہ تفاوت اس آیت کو دوسری آیتوں سے علیحدہ نہیں کرسکتا کیونکہ اس نوع کا اختلاف قرآن کی بیشمار آیتوں میں موجود ہے ، بلکہ بلاغت پر مبنی ہے ، ان کا تعلق ماسبق کی آیتوں سے منقطع نہیں ہوتا ، بات صرف یہ ہے کہ وہ لوگ چونکہ حشر کے معاملہ میں شبہات وشکوک کا اظہار کرتے تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ تمہیں دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب ہے اور ہم یقینا تم سب کو جہنم میں پھینکیں گے ۔ اس صورت میں ” ثم ننجی “ ۔ میں ثم تراخی بیان کے لئے ہوگا ، یعنی یہ معنے ہوں گے کہ تم لوگ تو سب جہنم میں جاؤ گے ، البتہ جو مومن اور متقی ہیں ، ان کے لئے ہمارا انتظام یہ ہے ، کہ ان کو نجات کا پروانہ دیا جائے اور عذاب جہنم سے قطعا بچا لیا جائے ، تائید میں یہ آیتیں پیش کی جاسکتی ہیں ، جو اپنے مفہوم میں بالکل واضح اور بین ہیں ۔ (آیت) ” ان الذین سبقت فہی منا الحسنے اولئک عنھا مبعدون “۔ یعنی نیک کردار لوگ جہنم سے کہیں دور رہیں گے ، دوسری جگہ تصریح ہے کہ نیک اور پاکباز لوگ تو جہنم کی آواز تک سننے نہ پائیں گے ، (آیت) ” لا یسمعون حسیسھا “۔ کیونکہ ہر تکدر کی بات سے محفوظ رکھا جائے گا ، (آیت) ” وھم من فزع یومئذ امنون “۔ گویا اس صورت میں تاویل آیات کے مطابق سیاق وسباق کے قرین اور مومن کی شایان شان ہے ۔ ٢۔ آیت عام ہے مومن و کافر دونوں کو شامل ہے البتہ لفظ درود کے معنے دخول کے نہیں ، بلکہ حضور وقرب کے ہیں مقصد یہ ہے کہ سب لوگ ایک مرتبہ جہنم کے قریب جائیں گے اور اس کو دیکھیں گے تاکہ اللہ کے مقام غضب سے آگاہ ہوں ۔ قرآن میں اور عربی لغت میں درود ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے محاورہ ہے کہ وردت القافلۃ البلدۃ “۔ یعنی قافلہ شہر کے قریب آپہنچا ، قرآن میں ہے (آیت) ” ولما ورد ماء مدین “۔ ظاہر ہے اس سے مراد محض قریب ہونا ہے ۔ ٣۔ آیت عام ہے لفظ درود سے مراد دخول ہے مگر مسلمانوں کو جہنم میں داخل ہونے سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا ، بلکہ ان کے لئے جہنم کی آگ نار ابراہیم (علیہ السلام) ثابت ہوگی ، چنانچہ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ جہنم میں نیک وبد سب جائیں گے مگر نیکو کاروں کے لئے ور برددسل امتی میں تبدیل ہوجائے گی ، غرض یہ ہے کہ مسلمان بہرحال جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے تاویل کا کوئی پہلو تسلیم کرلیجئے ، غرض ایک ہے اور مسلمان کی نجات کی خوشخبری ہے ، حل لغات : شیئا : یعنی تقابل نہ کرو ، والشیطین : برے لوگ ، معبودان باطل