سورة البقرة - آیت 204

وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جس کی بات دنیا کی زندگی کے بارے میں تجھے اچھی لگتی ہے اور وہ اللہ کو اس پر گواہ بناتا ہے جو اس کے دل میں ہے، حالانکہ وہ جھگڑے میں سخت جھگڑالو ہے۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

خوش گفتار منافق : (ف ٢) بعض لوگ زبان کے اتنے میٹھے اور رسیلے ہوتے ہیں کہ ان کے خبث باطن کا کسی طرح علم نہیں ہو سکتا ، یہ بہت خطرناک ثابت ہوتے ہیں ، ان کا ظاہر بڑا فریب وہ ہوتا ہے ، مگر دل میں دنیا جہان کی خرابیاں پنہاں ہوتی ہیں ، قرآن حکیم جو علیم بذات اللہ اور خدا کی کتاب ہے ، وہ تمام برائیاں واشگاف کرکے رکھ دیتا ہے ، جو دل کی پنہائیوں میں پوشیدہ ہے وہ کہتا ہے کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دنیا داری کے لحاظ سے نہایت اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن حق کے قبول کرنے کے لئے ان میں ذرہ بھر بھی استعداد نہیں ، ان کی قلبی خباثتوں پر گواہ ہے ، ان کا وطیرہ خدا کی پرامن زمین میں فساد پھیلانے ہے اور جب انہیں اللہ سے ڈرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو اسی وقت دنیوی عزت وجاہ ان کو قبول حق میں آڑے آتی ہے ۔ یعنی اس لئے کہ انہیں سچائی کے لئے کچھ ایثار کرنا پڑے گا اس سے محروم رہتے ہیں ۔ فرمایا کہ یہ لوگ یاد رکھیں ، قیامت کے دن یہ جھوٹی عزتیں اور مصنوعی وقار کام نہ آسکیں گے اور یہ مع اپنی تمام عزتوں کے جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ حل لغات : الدالخصام : سخت جھگڑالو ۔ حرث : کھیتی :