سورة النحل - آیت 48

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) اس آیت میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ، کہ بجز انسان کے کائنات کی ہر چیز فطرت کے قوانین کی تابع ہے ، آفتاب سے لے کر ذرہ تک اور ملائکہ سے ادنی قسم کے حیوانات تک سب اطاعت کا دم بھرتے ہیں یعنی قدرت کی جانب سے جو فرائض ان پر عائد کئے گئے ہیں ۔ وہ ان کو پورا کرتے ہیں ، مگر حضرت انسان ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں سرگرم ہے ، پہاڑ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، چاند ، سورج ، روزانہ خدا کے حکم کے تحت طلوع وغروب کے فرائض انجام دیتے ہیں ، کائنات کا حقیر سے حقیر ذرہ اپنے وظائف حیات ادا کر رہا ہے ، یہی قرآن کی اصطلاح میں سجدہ ہے ، یہ انسانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کرتا ، اور مذہب کی جانب سے جو فرائض اس پر عائد کئے گئے ، ان کو پورا کرنے میں کوتاہی کا اظہار کرنا ہے ۔