سورة الاعراف - آیت 41

لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) آیت کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو متکبر ہیں ، جو محض سرکشی اور نخوت کی وجہ سے صداقت کی نعمت سے محروم ہیں ، جو دنیوی جاہ وجلال کے لئے دنیوی حظوظ ولذات کے لئے اسلام کے رتبہ عقیدت کو زینت گلو نہیں کرتے ، وہ مجرم ہیں اور میں قابل نہیں ، کہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہوں ، جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہیں گذر سکتا ، اسی طرح ان کے لئے آسمان کے دروازے بند رہیں گے ۔ حل لغات : ابواب السمآء : جمع باب ، دروازہ راستہ ۔ الجمل : کے معنی عام مترجمین نے اونٹ کے کئے ہیں ، اس لئے کہ یہ معنی زیادہ متبادر نہیں ، الجمل موٹے رسے کو بھی کہتے ہیں ، یہ زیادہ صحیح معنی ہیں کیونکہ اس طرح سوئی اور رسے میں ایک تلازم قائم رہتا ہے ۔ سم : کے معنی ناکہ اور سوراخ کے ہیں ، غواش : جمع غاشیہ اوپر اوڑھنے والی چیز جس سے بدن ڈھک جائے ،