سورة فصلت - آیت 52

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُم بِهِ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے کیا تم نے دیکھا گر وہ اللہ کی طرف سے ہوا، پھر تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہو۔

تفسیر ثنائی - ثنا اللہ امرتسری

(52۔54) اے نبی ! تو ان مخالفوں کو کہہ آئو اصل بات پر غور کر وبتلائو تو سہی اگر یہ قرآن جو مجھے الہام ہوتا ہے اللہ کے پاس سے ہو پھر بھی تم اس سے منکر ہی رہو۔ تو تمہاری گمراہی میں کیا شک ہے پس بتلائو کون بڑھ کر گمراہ ہے اس شخص سے جو ہدایت سے بہت دور گمراہی میں پھنسا ہوا ہے الٰہی ہدایت کو چھوڑ کر ادھر ادھر جاتا ہے ہم (اللہ) ان کو اسلام کی سچائی کے لئے ان کے اردگرد اور خود ان کے اندر اپنے نشان دیکھا دیں گے پس یہ لوگ اسلام اور قرآن کے پھیلنے میں رکاوٹیں پیدا کرلیں ہم بھی ان کو کرشمہ قدرت دکھا دیں گے کہ پہلے ان کے اردگرد اسلام شائع کریں گے یعنی مکہ معظمہ کے اردگرد کے لوگ مسلمان ہوں گے ان کے بعد خود مکہ میں بھی کافی اشاعت ہوگی یہاں تک کہ ان کو حق واضح ہوجائے گا اور یہ خود بخود اس کے ماننے پر مجبور ہوں گے۔ مخالفوں کی قوت اور مسلمانوں کے ضعف پر نظر کر کے ان کے دلوں میں خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ یہ ایک خواب خیال ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں تو کیا تمہارا پروردگار ایسے کام کرنے کو اکیلا کافی نہیں ہے اس وجہ سے کہ وہ ہر چیز اور ہر کام پر نگران اور منتظم ہے دنیا کی ہر ایک چیز اس کے قبضے میں ہے جس سے جو چاہتا ہے کام لیتا ہے۔ اور جو چاہے لے سکتا ہے۔ ہاں سنو لوگو ! یہ منکر لوگ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں یعنی ان کو اللہ پر ایمان نہیں پس سنو ! لاریب وہ پروردگار ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اس کے احاطے سے کوئی چیز باہر نہیں۔ سچ ہے ہست سلطانی مسلم مردرا نیست کس راز ھرۂ چون وچرا