سورة النمل - آیت 45

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور بلاشبہ یقیناً ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔

تفسیر ثنائی - ثنا اللہ امرتسری

(45۔58) حقیقت میں انسان کا یہ کمال شرافت ہے کہ اللہ کے حکموں کے آگے چوں نہ کرے اسی امر کی ہدایت کرنے کو دنیا میں ہزار ہا انبیاء اور نیک بندے آئے اور اسی غرض کیلئے ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی حضرت صالح نبی کو بایں پیغام بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو پس وہ سنتے ہی دو مختلف گروہ ہو کر باہمی جھگڑنے لگے ایک فریق تو الٰہی ہدایت کے مطابق کاربند ہوا ایک گروہ بدستور ان کا مخالف رہا اس گروہ کے لوگ حضرت صالح اور ان کے معتقدین کے ساتھ بگڑ کر کہتے کہ ہم تو تمہاری بات کبھی نہ مانیں گے تم اگر سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آئو تب ہم تمہاری کرامت مانیں گے یہ قصہ وقضیہ سن کر حضرت صالح نے کہا میرے بھائیو ! اللہ سے عافیت اور نیکی چاہو بھلائی سے پہلے برائی کو جلدی جلدی کیوں چاہتے ہو بھائیو ! کیوں اللہ تعالیٰ سے تم بخشش نہیں مانگتے تاکہ اللہ تمہارے گناہ بخشدے اس کے ہاں کسی چیز کی کمی نہیں پس تم بخشش مانگو تاکہ تم پر رحم کیا جائے وہ بھلا کہاں مانتے جاہل بگڑے ہوئے اللہ کی پناہ ! بولے بخشش مانگنے نہ مانگنے کی بات تورہی الگ تیرے کہنے سے تو ہم مانگنے کے نہیں کیونکہ ہم نے تجھ کو اور تیرے ساتھ والوں کو جو یہ لمبی لمبی ڈاڑھی لٹکائے پھرتے ہیں اور دن میں پانچ پانچ سات سات دفعہ نمازیں پڑھتے ہیں ان کو بڑاہی منحوس پایا ہے واللہ جب سے تم اس نئے خیال کے لوگ پیدا ہوئے ہو کئی ایک قسم کی بلائیں ملک پر آئی ہیں اور کئی ایک طرح کی آفات ارضی و سماوی بیماری ہمارے ملک کو کھا گئی ہیں حضرت صالح نے کہا بھائیو ! تم تو ضد میں باتیں کرتے ہو بھلا یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ کریں ہم مگر پڑے تم پر اسی سے تم سمجھو کہ تمہاری نحوست کا اصل سبب اللہ کے ہاں سے تمہاری بدکرداری ہے یہ نہیں کہ ہمارے برے اعمال سے تم ہلاک ہوجائو نہیں بلکہ تم ایک ایسی قوم ہو جو اپنے ہی گناہوں کے باعث عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہو تمہاری بدکرداری کوئی ایسی چیز ہے جو کسی سے مخفی ہو ہرگز نہیں خیر یہ تھی عام لوگوں کی گفتگو ان کے علاوہ خاص شہر میں نو شخص ایسے تھے جو ملک میں فساد کرتے تھے اور کسی طرح سے اصلاح نہ کرتے تھے انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا آئو بھئی عہد کرو اور اللہ کے نام کی قسم کھائو کہ جس طرح سے بن پڑے ہم اس صالح کو اور اس کے ساتھ والوں کو قتل کر ڈالیں گے پھر اس کے والی یعنی قریبی رشتہ دار کو کہہ دیں گے کہ ہم اس کی ہلاکت کے وقت حاضر نہ تھے نہ ہمیں کوئی خبر ہے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ معاملہ کس سے ہے اس لئے انہوں نے یہ چالاکی سوچی اور ہر طرح کے خفیہ دائو کئے کہ کسی طرح کامیاب ہوسکیں ہم (اللہ) نے بھی خفیہ حکم دیا) ایسا کہ ان کو نیست و نابود کردیا اور ان کو خبر بھی نہ ہوئی پس تو دیکھ کہ ان کے دائو کا انجام کیسا ہوا کہ ہم نے ان نو اشخاص کو اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کردیا پس ان کے مظالم کی وجہ سے یہ ان کے گھر ویران پڑے ہیں تم سوچتے نہیں کہ بدی کا انجام ہمیشہ بد ہوتا ہے بے شک اس مذکور میں علم دار قوم کیلئے بہت بڑی ہدایت کی نشانی ہے وہ جان سکتے ہیں اور اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ برے اعمال ثمرہ نیک نہیں دیا کرتے دیکھو ان کو ہم نے یوں تباہ کیا اور جو لوگ ایمان لائے اور پرہیز گار تھے ان کو ہم نے نجات بخشی گویہ کارروائی ساری کفار کے منشاء کے بر خلاف ہوئی مگر ہمارے حکم کے بر خلاف نہیں ہوئی کیونکہ ہم نے اس کو بھیجا تھا اور حضرت لوط کو بھی ہم نے بھیجا تھا جس کا قصہ بھی عجائبات زمانہ سے ایک اعجوبہ ہے اس کی ابتدا اس وقت سے ہی جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیدہ دانستہ بے حیائی کرتے ہو کیا تمہیں شرم نہیں آئی کہ تم عورتوں کے سوا شہوت پوری کرنے کیلئے لڑکوں پر گرتے ہو بس بات یہ ہے کہ تم بالکل جہالت کے کام کرتے ہو پس یہ سن کر اس کی قوم کا جواب یہی ہوا کہ انہوں نے آپس میں کہا لوگو ! سنو ! ان بھلے مانسوں یعنی لوط کے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ تمہارے جیسے کام کرنے سے پاک رہتے ہیں اور بڑے نیک بخت بننے کے مدعی ہیں اس لئے مناسب نہیں کہ ہم بدکاروں میں ایسے نیکوکار رہیں ورنہ خطرہ ہے ؎ کسی دن یہ پگڑی اچھل جائے گی پس بہت جلدی ان کو الگ کرو پس جب وہ ان کھوٹے ہتھیاروں پر آئے تو ہمارا غضب بھی موجزن ہوا ہم نے اس لوط کو اور اس کے ساتھ والوں کو عذاب سے بچا لیا سوائے اس کی عورت کے اس کی بے فرمانی کی وجہ سے ہم نے اس کو عذاب میں پیچھے رہنے والوں میں مقدر کر رکھا تھا ان کو تو بچایا اور ان مخالفوں پر پتھروں کی بارش کی پس کچھ نہ پوچھو کہ ان ڈرائے ہوئے لوگوں پر کیسی بارش تھی بہت ہی بری طرح سے وہ کچلے گئے اور ان پر تباہی آئی