سورة الاعراف - آیت 34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کردیا اور ان کے لئے ایک مدت مقرر کردی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہوسکتی ہیں نہ ان کے افراد۔