سورة الأحقاف - آیت 19

وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں، ان اعمال کی وجہ سے جو انھوں نے کیے اور تاکہ اللہ انھیں ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿ وَلِكُلٍّ ﴾ یعنی اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر ایک ﴿ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ﴾ خیر اور شر کے مطابق اپنے اپنے مرتبہ پر اور اپنے اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق آخرت میں اپنے درجہ پر ہوگا۔ بنابریں فرمایا : ﴿ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴾ ” اور ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ یعنی ان کی برائیوں میں کوئی اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی۔