سورة الشعراء - آیت 217

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اس سب پر غالب، نہایت رحم والے پر بھروسا کر۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

جن امور کو قائم کرنے کا حکم بندۂ مومن کو دیا گیا ہے، ان کے قیام میں سب سے بڑی مددگار چیز اپنے رب پر بھروسا اور ان امور کو قائم کرنے کی توفیق کے لئے اپنے مولائے کریم سے اعانت کا سوال ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے توکل کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا : ﴿ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ﴾ ” اور غالب، مہربان پر توکل کرو۔“ توکل سے مراد دل کا جلب منفعت اور دفع مضرت کے لئے، اپنے مطلوب کے حصول پر وثوق اور حسن ظن کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے کیونکہ وہ غالب اور مہربان ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر اپنے بندے کو بھلائی عطا کرنے اور اس سے شر کو دور کرنے پر قادر ہے اور وہ اپنی رحمت سے اس فعل کو سرانجام دیتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اعانت، اس کے قرب کے راستحضر اور مقام احسان پر فائز ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔