وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ
اور وہ کشتی بناتا رہا اور جب کبھی اس کے پاس سے اس کی قوم کے کوئی سردار گزرتے اس سے مذاق کرتے۔ وہ کہتا اگر تم ہم سے مذاق کرتے ہو تو ہم تم سے مذاق کرتے ہیں، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔
نوح علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کردی ﴿ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ ﴾ ” جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے“ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا ﴾ ” تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر مذاق کرتے ہو ہم سے“ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿ فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴾ ” تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔