سورة الانعام - آیت 29

وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری دنیا کی زندگی اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٩۔ ١ یہ بعث بعد الموت (مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) کا انکار ہے جو ہر کافر کرتا ہے اور اس حقیقت سے انکار ہی دراصل ان کے کفر و عصیان کی سب سے بڑی وجہ ہے ورنہ اگر انسان کے دل میں صحیح معنوں میں اس عقیدہ آخرت کی صداقت راسخ ہوجائے تو کفر و جرم کے راستے سے فوراً تائب ہوجائے۔