سورة البقرة - آیت 73

فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

تو ہم نے کہا اس پر اس کا کوئی ٹکڑا مارو، اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا اور تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، تاکہ تم سمجھو۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٣۔ ١ مقتول کے دوبارہ جی اٹھنے سے ثابت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ روز قیامت تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اعلان فرما رہا ہے۔ قیامت والے دن دوبارہ مردوں کو زندہ ہونا منکرین قیامت کے لئے ہمیشہ حیرت کا باعث رہا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے کو بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف پیرائے میں بیان فرمایا ہے۔ سورۃ بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی پانچ مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک مثال (ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ) 002:064 البقرہ ٥٦ میں گزر چکی ہے۔ دوسری مثال یہی قصہ ہے۔ تیسری مثال دوسرے پارے کی آیت نمبر ٢٤٣ آیت (مُوْتُوْا ۣ ثُمَّ اَحْیَاھُمْ) 002:243 چوتھی آیت نمبر ٢٥٩ آیت (فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَـۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ) 002:259 اور پانچویں مثال اس کے بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طیور اربعہ ( چار چڑیوں) کی ہے۔