سورة البقرة - آیت 71

قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہا بے شک وہ فرماتا ہے کہ بے شک وہ ایسی گائے ہے جو نہ جوتی ہوئی ہے کہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہے، صحیح سالم ہے، اس میں کسی اور رنگ کا نشان نہیں۔ انھوں نے کہا اب تو صحیح بات لایا ہے۔ پس انھوں نے اسے ذبح کیا اور وہ قریب نہ تھے کہ کرتے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧١۔ ١ انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا ایک گائے ذبح کرو۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو حکم الٰہی پر عمل ہوجاتا لیکن انہوں نے حکم الٰہی پر سیدھے طریقے سے عمل کرنے کی بجائے میخ نکالنا شروع کردی اور طرح طرح کے سوال کرنے شروع کردیئے، جس پر اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا۔ اس لئے دین میں سختی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔