سورة النسآء - آیت 74

فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پس لازم ہے کہ اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچتے ہیں اور جو شخص اللہ کے راستے میں لڑے، پھر قتل کردیا جائے، یا غالب آجائے تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اجر دیں گے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٤۔ ١ شَرَیٰ یشٰریٰ، کے معنی بیچنے کے بھی آتے ہیں اور خریدنے کے بھی۔ متن میں پہلا ترجمہ اختیار کیا گیا ہے اس اعتبار سے (فلیقاتل) کا فاعل (الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا) 004:074 اگر اس کے معنی خریدنے کے کئے جائیں تو اس صورت میں الذین مفعول بنے گا اور فلیقاتل کا فاعل المومن النافر (راہ جہاد میں کوچ کرنے والے مومن) محذوف ہوگا۔ مومن ان لوگوں سے لڑیں جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا خرید لی۔ یعنی جنہوں نے دنیا کے تھوڑے سے مال کی خاطر اپنے دین کو فروخت کردیا۔ مراد منافقین اور کافرین ہونگے (ابن کثیر نے یہی مفہوم بیان کیا ہے)