سورة النسآء - آیت 50

انظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُّبِينًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

دیکھ وہ اللہ پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں اور صریح گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٠۔ ١ یعنی مذکورہ دعوائے تزکیہ کرکے۔ ٥٠۔ ٢ یعنی ان کی یہ حرکت اپنی پاکیزگی کا ادعا ان کے جھوٹ افزا کے لئے کافی ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت اور اس کے شان نزول کی روایات سے معلوم ہوا کہ ایک دوسرے کی مدح و توصیف بالخصوص تزکیہ نفوس کا دعویٰ کرنا صحیح اور جائز نہیں۔ اسی بات کو قرآن کریم کے دوسرے مقام پر اسی طرح فرمایا، (فَلَا تُزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ۭ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی) 053:032 اپنے نفسوں کی پاکیزگی اور ستائش مت کرو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تم میں متقی کون ہے؟ حدیث میں ہے حضرت مقداد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی ڈال دیں "ان نحثو فی وجوہ المداحین التراب (صحیح مسلم، کتاب الزھد) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو ایک دوسرے آدمی کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ویحک قطیت عنق صاحبک) افسوس ہے تجھ پر تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی پھر فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو کسی کی لا محالہ تعریف کرنی ہے تو اس طرح کہا کرے، میں اسے اس طرح گمان کرتا ہوں۔ اللہ پر کسی کا تزکیہ بیان نہ کرے (صحیح بخاری)