سورة الملك - آیت 23
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
تفسیر مکہ - حافظ صلاح الدین یوسف حافظ
* یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ ** جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور وفکر کرکے اللہ کی معرفت حاصل کر سکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کرسکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکرگزاری کرتے ہو۔ *** یعنی شُکْرًا قَلِیْلًا یا زَمْنًا قَلِیلًا یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔