سورة النسآء - آیت 16

وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور وہ دونوں جو تم میں سے اس کا ارتکاب کریں سو ان دونوں کو ایذا دو، پھر اگر دونوں توبہ کرلیں تو ان سے خیال ہٹا لو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بے حد توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٦۔ ١ بعض نے اس میں اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بد فعلی کرنا اور بعض نے اسے باکرہ مرد و عورت مراد لیئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مراد لیا ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (ابن جریر طبری) نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد و عورت) کو ترجیح دی ہے اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورۃ نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دی ہے۔ (تفسیر طبری) ١٦۔ ٢ یعنی زبان سے زجر و توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدوکوب کرلینا۔ اب یہ منسوخ ہے، جیسا کہ گزرا۔