سورة ص - آیت 44

وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا (جھاڑو) لے اور اسے مار دے اور قسم نہ توڑ، بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، اچھا بندہ تھا۔ یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٤۔ ١ بیماری کے ایام میں خدمت گزار بیوی کسی بات سے ناراض ہو کر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اسے سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، صحت یاب ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا، سو تنکوں والی جھاڑو لے کر ایک مرتبہ اسے مار دے، تیری قسم پوری ہو جائیگی۔