سورة يس - آیت 3

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بلاشبہ تو یقیناً بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣۔ ١ مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت میں شک کرتے تھے، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا انکار کرتے اور کہتے تھے (وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ کَفٰی باللّٰہِ شَہِیْدًۢا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ 43؀ۧ) 13۔ الرعد :43) ' تو تو پیغمبر ہی نہیں ' اللہ نے ان کے جواب میں قرآن حکیم کی قسم کھا کر کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پیغمبروں میں سے ہیں۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شرف و فضل و اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کی رسالت کے لئے قسم نہیں کھائی یہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امتیازات اور خصائص میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے اثبات کے لئے قسم کھائی۔