سورة سبأ - آیت 28

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٨۔ ١ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت عامہ کا بیان فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری نسل انسانیت کا ہادی اور رہنما بنا کر بھیجا گیا ہے۔ دوسرا، یہ بیان فرمایا کہ اکثر لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش اور کوشش کے باوجود ایمان سے محروم رہیں گے۔ ان دونوں باتوں کی و ضاحت اور بھی دوسرے مقامات پر فرمائی ہے۔ مثلا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے ضمن میں فرمایا، ( قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ) 7۔ الاعراف :158) (تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَۨا) 25۔ الفرقان :1) ایک حدیث میں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ١۔ مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے میں میری مدد فرمائی گئی ہے۔ ٢۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک ہے، جہاں بھی نماز کا وقت آجائے، میری امت وہاں نماز ادا کر دے۔ ٣۔ مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا، جو مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں تھا۔ ٤۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ ٥۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا ہے (صحیح بخاری صحیح مسلم، کتاب المساجد) احمر اسود سے مراد بعض نے جن وانس اور بعض نے عرب وعجم لیے ہیں امام ابن کثیر فرماتے ہیں دونوں ہی معنی صحیح ہیں۔ اسی طرح اکثر کی بے علمی اور گمراہی کی وضاحت فرمائی (وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ) 12۔ یوسف :103) آپ کی خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے (وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ) 6۔ الانعام :116) اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کے پیچھے چلیں گے تو وہ آپ کو گمراہ کردیں گے جس کا مطلب یہی ہوا کہ اکثریت گمراہوں کی ہے