سورة الشعراء - آیت 23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٣۔ ١ یہ اس نے بطور دریافت کے نہیں، بلکہ جواب کے طور پر کہا، کیونکہ اس کا دعویٰ تو یہ تھا (مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہِ غَیْرِیْ) (وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰہَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَطَّلِــعُ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی ۙ وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ) 28۔ القصص :38) ' میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں '