سورة الشعراء - آیت 6

فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

پس بے شک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦ ۔ ١ یعنی تکذیب کے نتیجے میں ہمارا عذاب عنقریب انھیں اپنی گرفت میں لے لے گا جسے وہ ناممکن سمجھ کر استہزاء ومذاق کرتے ہیں یہ عذاب دنیا میں بھی ممکن ہے جیسا کہ کئی قومیں تباہ ہوئیں بصورت دیگر آخرت میں تو اس سے کسی صورت چھٹکارا نہیں ہوگا ماکانوا عنہ معرضین نہیں کہا بلکہ ماکانوا بہ یستھزؤن کہا کیونکہ استہزا ایک تو اعراض وتکذیب کو بھی مستلزم ہے دوسرے یہ اعراض وتکذیب سے زیادہ بڑا جرم ہے۔ فتح القدیر۔