سورة الحج - آیت 67

لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ ۖ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْأَمْرِ ۚ وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدًى مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

ہر امت کے لیے ہی ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ تجھ سے اس معاملے میں ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، بے شک تو یقیناً سیدھے راستے پر ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٧۔ ١ یعنی ہر زمانے میں ہم نے لوگوں کے لئے ایک شریعت مقرر کی، جو بعض چیزوں میں سے ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوتی، جس طرح تورات، امت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے، انجیل امت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے شریعت تھی اور اب قرآن امت محمدیہ کے لئے شریعت اور ضابطہ حیات ہے۔ ٦٧۔ ٢ یعنی اللہ نے آپ کو جو دین اور شریعت عطا کی ہے، یہ بھی مذکورہ اصول کے مطابق ہی ہے، ان سابقہ شریعت والوں کو چاہیے کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت پر ایمان لے آئیں، نہ کہ اس معاملے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جھگڑیں۔ ٦٧۔ ٣ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جھگڑے کی پرواہ نہ کریں، بلکہ ان کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں، کیونکہ اب صراط مستقیم پر صرف آپ ہی گامزن ہیں، یعنی پچھلی شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔