سورة البقرة - آیت 227

وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر طلاق کا پختہ ارادہ کرلیں تو بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٢٧۔ ١ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہی از خود طلاق واقع نہیں ہوگی (جیسا کہ بعض علماء کا مسلک ہے۔ بلکہ خاوند کے طلاق دینے سے طلاق ہوگی جس پر عدالت بھی اسے مجبور کرے گی جیسا کہ جمہور علماء کا مسلک ہے۔