سورة البقرة - آیت 201

وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٠١۔ ١ یعنی اعمال خیر کی توفیق، اہل ایمان دنیا میں بھی دنیا طلب نہیں کرتے بلکہ نیکی کی ہی توفیق طلب کرتے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت سے یہ پڑھتے تھے۔ طواف کے دوران ہر چکر کی الگ الگ دعا پڑھتے ہیں جو خود ساختہ ہیں ان کے بجائے طواف کے وقت یہی دعا پڑھی جائے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً) 002:201 رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان پڑھنا مسنون عمل ہے۔