سورة الحجر - آیت 21

وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢١۔ ١ بعض نے خزائن سے مراد بارش لی ہے کیونکہ بارش ہی پیداوار کا ذریعہ ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے اس سے مراد تمام کائنات کے خزانے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ حسب مشیت و ارادہ عدم سے وجود میں لاتا رہتا ہے۔