سورة ابراھیم - آیت 14

وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِن بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور یقیناً ان کے بعد ہم تمھیں اس زمین میں ضرور آباد کریں گے، یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری وعید سے ڈرا۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٤۔ ١ یہ مضمون بھی اللہ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے مثلاً، (ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصٓلحون)۔ الانبیا۔ ہم نے لکھ دیا زبور میں، نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے ' چنانچہ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی، آپ کو با دل نخواستہ مکے سے نکلنا پڑا لیکن چند سالوں بعد ہی آپ فاتحانہ مکے میں داخل ہوئے اور آپ کو نکلنے پر مجبور کرنے والے ظالم مشرکین سر جھکائے، کھڑے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر تھے لیکن آپ نے خلق عظیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ) 12۔ یوسف :92) کہہ کر سب کو معاف فرما دیا۔ صٓلوات اللہ وسلامہ علیہ ١٤۔ ٢ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی 40؀ۙ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰی 41؀ۭ) 79۔ النازعات :40)۔ النازعات۔ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکے رکھا یقینا جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔۔ (ولمن خاف مقام ربہ جنتن)۔ الرحمن۔ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔