سورة یونس - آیت 54

وَلَوْ أَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِي الْأَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهِ ۗ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ ۖ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر فی الواقع ہر شخص کے لیے جس نے ظلم کیا ہے، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اسے ضرور فدیے میں دے دے اور وہ پشیمانی کو چھپائیں گے، جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٤۔ ١ یعنی اگر دنیا بھر کا خزانہ دے کر وہ عذاب سے چھوٹ جائے تو دینے کے لئے آمادہ ہوگا۔ لیکن وہاں کسی کے پاس ہوگا ہی کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ عذاب سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔