سورة طه - آیت 102

يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔

ابن کثیر - حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر صاحب

صور کیا ہے ؟ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا ۔ } ۱؎ (سنن ترمذی:3244،قال الشیخ الألبانی:صحیح) اور حدیث میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے ۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے ۔} اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا ، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے ، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے ۔ لوگوں نے کہا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیا پڑھیں ؟ فرمایا کہو « حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا » ۔ } ۱؎ (سنن ترمذی:3243،قال الشیخ الألبانی:صحیح) اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی ۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے ، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے ۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے ؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے ۔ غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک سپنے کی طرح معلوم ہو گی ۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ہم تو ٹھہرے ہوں گے ۔ چنانچہ اور آیت میں ہے « اَوَلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ » ۱؎ (35-فاطر:37) الخ ۔ ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی ۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے ۔ اور آیتوں میں ہے کہ«قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِینَ قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا أَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّینَ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِیلًا ۖ لَّوْ أَنَّکُمْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ» ۱؎ (23-المؤمنون:112) اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے ؟ ان کا جواب ہے ایک دن بلکہ اس سے بھی کم ۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر ، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے ۔