سورة الانعام - آیت 153

وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کردیں گے۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی وصیتوں کا خلاصہ اور نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ اے لوگو! بس صراط مستقیم پر چلو۔ نو نصیحتیں کرنے کے بعد فرمایا یہی سیدھا راستہ ہے کیونکہ نصائح کے آغاز میں لفظ ” قل“ سے حکم دیا گیا تھا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان لوگوں کو یہ نصائح پڑھ کر سنائیں اب ان کے اختتام پر فرمایا ہے کہ آپ یہ اعلان فرمائیں کہ یہی میرا صراط مستقیم ہے لہٰذا تم سب کے سب اسی کی اتباع کرو دوسرے راستوں اور طریقوں کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم اس راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلو گے تو سیدھے راستے سے ہٹ جاؤ گے اس لیے تمھیں وصیت کی جاتی ہے کہ تم اسی راستہ پر چلنا تاکہ تم گناہ اور گمراہی کے راستوں سے بچ جاؤ۔ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَخَطَّ خَطًّا وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّمِینِہٖ وَخَطَّ خَطَّیْنِ عَنْ یَّسَارِہٖ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ فِی الْخَطِّ الْأَوْسَطِ فَقَالَ ہَذَا سَبِیل اللّٰہِ ثُمَّ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَأَنَّ ہٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوہُ وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ)) [ رواہ ابن ماجۃ: باب اتباع سنۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت جا بر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سیدھا خط کھینچا پھر اس کے دائیں اور بائیں مختلف خطوط کھینچے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک درمیان والے سیدھے خط پر رکھتے ہوئے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :” اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا دوسری راہوں پر نہ چلو دوسری راہیں تمہیں صراط مستقیم سے جدا کردیں گی۔“