سورة الانعام - آیت 116

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر تو ان لوگوں میں سے اکثر کا کہنا مانے جو زمین میں ہیں تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکل دوڑاتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حق و انصاف، ہدایت اور رہنمائی کا فیصلہ لوگوں کی اکثریت پر نہیں ہوا کرتا۔ اکثریت کے پیچھے چلنے والا گمراہ ہی ہوا کرتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوتی ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں منکرین حق اپنی گمراہی کی تائید میں یہ دلیل بھی دیا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی پیروی کرنے والے تعداد کے لحاظ سے تھوڑے اور وسائل کے اعتبار سے کمزور کیوں ہیں ؟ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ گمراہی پر قائم رہی ہے لہٰذا حق و صداقت کا معیار ٹھوس دلائل ہیں لوگوں کی اکثریت نہیں۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کا پابند کیا گیا ہے نہ کہ جمہوریت کا؟ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ دنیا میں گمراہ لیڈر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جمہوریت کا بہانہ بنائیں گے اس لیے اس نے جمہوریت کے بت کو پاش پاش کرنے کے لیے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ بھی عدل و انصاف کے اصول اور قرآن مجید کی ہدایات کو چھوڑ کر محض اکثریت کی اتباع کریں گے تو یہ لوگ آپ کو صراط مستقیم سے ہٹا دیں گے۔ اکثریت تو خود ساختہ اصولوں اور اپنے تصورات کی اتباع کرنے کے سوا کسی حقیقت پر قائم نہیں ہوتی۔ قربان جائیں قرآن کے فرمان پر! دنیا میں جہاں، جہاں بھی جمہوریت کو حق وباطل کا معیار بنایا گیا ہے وہاں یہی اصول ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ ہی حق کا معیار ہے اس لیے انتخاب جیتنے والا ہر لیڈر نعرہ لگاتا ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ غلط نہیں ہوسکتا لیکن جب الیکشن ہار جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میرا مد مقابل عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ قرآن مجید جمہوریت کو حق و باطل کا معیار قرار دینے کے اصول اور نظریہ کی نفی کرتا ہے۔ لہٰذا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ پورے اخلاص اور دلجمعی کے ساتھ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کی طرف بلائیں اور اس پر جمے رہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے گمراہ ہوا کون خوش نصیب ہدایت یافتہ ہے۔ اس فرمان میں ایک اعتبار سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی کہ آپ کا کام سمجھانا ہے منوانا نہیں۔ مسائل ایمان اور حق کا معیار : ١۔ مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی پیروی کرنی چاہیے۔ ٢۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ٣۔ اکثریت کی پیروی حق کا معیار نہیں ہوا کرتی۔ ٤۔ لوگوں کی اکثریت محض وہم و گمان کی پیروی کرتی ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن لوگوں کی اکثریت حق کے بارے میں جاہل اور گمراہ ہوتی ہے : ١۔ اگر ہم منکرین کے سامنے ہر چیز کو اکٹھا کردیتے تب بھی وہ ایمان نہ لاتے کیونکہ اکثر ان میں جاہل ہیں۔ (الانعام : ١١١) ٢۔ کیا زمین و آسمان کی تخلیق مشکل ہے یا انسان کی پیدائش مگر اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الفاطر : ٥٧) ٣۔ یہ دین صاف اور سیدھا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٤٠) ٤۔ اللہ اپنے امر پر غالب ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ (یوسف : ٢١) ٥۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں۔ (الروم : ٦)