سورة الانعام - آیت 103

لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : توحید کے بین اور ٹھوس دلائل دینے کے بعد وضاحت فرمائی گئی ہے کہ تم اپنے خالق کو بصیرت کی آنکھوں اور اس کی قدرت کے نشانات کے حوالے سے دیکھ سکتے ہو لیکن ظاہری آنکھ سے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت رکھنا مومن کے ایمان کی معراج ہے۔ جنت میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی زیارت اور خوشنودی ہوگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے حجاب میں ہم کلامی کرتے ہوئے فرط محبت میں آکر مطالبہ کیا تھا۔ اے رب کریم میرا دل تیری زیارت کے لیے تڑپ رہا ہے اس لیے میری درخواست ہے کہ مجھے اپنی زیارت کے شرف سے سرفراز فرمائیں۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوا۔ اے موسیٰ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا جب موسیٰ محبت الٰہی میں بے قرار ہو کر اصرار کرنے لگے تو حکم ہوا کوہ طور کے فلاں حصہ پر نگاہ اٹھاؤ۔ اگر وہ میرے جلال و جمال کی ایک کرن برداشت کرسکا تو تُو بھی میرے جلال اور جمال کی جھلک برداشت کرسکے گا۔ جو نہی اللہ تعالیٰ کے جمال کی ایک کرن کوہ طور پر پڑی تو طور کا وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر پیٹھ کے بل نیچے گرپڑے۔ جب ہوش آیا تو اس مطالبہ پر اللہ سے معافی طلب کی۔ اس کی تفصیل سورۃ الاعراف آیت ١٤٣ میں ملاحظہ فرمائیے۔ کفار محبت الٰہی کی بنا پر نہیں بلکہ انبیاء (علیہ السلام) پر بےیقینی اور ان کو لاجواب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان میں یہودی سرفہرست رہے ہیں جنھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بار ہا مطالبہ کیا کہ ہم تب ایمان لائیں گے جب ہم براہ راست اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مجبور ہو کر ستر آدمیوں کو ساتھ لے کر کوہ طور پر پہنچے جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اس کے دیدار کا مطالبہ کرنے لگے تو ایک کڑک نے انھیں آلیا۔ وہ سب کے سب ہلاک ہوئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ زندگی عنایت فرمائی۔ (الاعراف : ١٥٥) معراج کی رات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مؤقف ہے آپ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کی براہ راست زیارت کی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی رات رؤیت کا شرف پایا۔ حضرت ابن عباس (رض) کی وجہ سے کچھ صحابہ اور بعض ائمہ کرام کا بھی یہی موقف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کی زیارت کی ہے۔ اس کے لیے وہ دوآیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ ( وَلَقَدْ رَاٰہُ بالْاُفُقُ الْمُبِیْنِ)[ التکویر : ٢٣] ” اور اس نے اس کو روشن افق پر دیکھا“ (وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی )[ النجم : ١٣] ” اور ایک مرتبہ اور بھی اس نے اس کو دیکھا“ لیکن صحابہ کرام (رض) کی غالب اکثریت ان آیات کو جبریل امین (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کی ملاقات پر منطبق کرتی ہیں کیونکہ حضرت عائشہ (رض) فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ میں نے براہ راست اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کا دیدار پایا ہے ؟ آپ نے اس کی نفی فرمائی۔ کیوں کہ قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی جبکہ وہ ہر آنکھ کو دیکھنے والا ہے۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ ہے یہ ہر اعتبار سے فضول اور ناقابل فہم ہے۔ انسان کی نگاہ سمندر، پہاڑ اور صحرا کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ انسانی آنکھ سورج کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی یہاں تک کہ انسان اپنے ہاتھوں سے بنائے کسی پاور فل بلب کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کس طرح دیدار کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی لطیف بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ یہاں توحید کے دلائل کو بصائر کہا گیا ہے جو بصیرت کی جمع ہے۔ واضح رہے کہ جسمانی آنکھ کے دیکھنے کو بصارت اور قلب و فکر کے ساتھ کسی چیز کا ادراک کرنے کو بصیرت کہا جاتا ہے۔ یہاں توحید کے دلائل اور ان کی فہم کو بصیرت قرار دیا گیا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید کا ادراک رکھتے ہوئے اس کے تقاضے پورے کرتا ہے وہی عقل و دانش کا حامل انسان ہے۔ اس نور بصیرت کا اسے دنیا و آخرت میں فائدہ پہنچے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا وہ عقل و دانش کا اندھا ہے اور اس اندھے پن کا اسے دنیا و آخرت میں بے انتہا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ توحید کا فائدہ اور شرک کا نقصان بیان کرنے کے بعد رحمت دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کو لوگوں کی گمراہی پر آزر دہ ہونے اور انسانی حد سے بڑھ کر کوشش کرنے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے نفع و نقصان اور ہدایت و گمراہی کا ذمہ دار نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام، فرامین، اور دلائل کو مختلف انداز، الفاظ اور زاویوں سے اس لیے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ حقیقت کو جان جائیں۔ یہاں تک حقائق اور بصائر جو بصیرت کی جمع ہے جسکا معنی ہے ایسی حقیقت یا دلیل جس سے انسان کی آنکھیں کھل جائیں۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسے معجزات نازل کیے گئے کہ جن کو مانے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ کفار بھی کھلے الفاظ میں اپنی مجالس میں ان کا اعتراف کرتے تھے لیکن خاندانی نخوت جھوٹے مذہب کی عصبیت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخالفت کی وجہ سے سرعام اعتراف کرنے کی بجائے آئے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نئے سے نئے معجزہ کا مطالبہ کرتے تاکہ کفر پر قائم رہنے کے لیے اپنے اور عوام کے لیے کوئی بہانہ تلاش کرسکیں۔ جن پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جو جان بوجھ کر اندھا ہوجائے اس کے اندھے پن کا وبال اسی کے اوپر پڑے گا۔ جس کا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکلف نہیں بنایا گیا۔ نبی کا کام حق پہچانا ہے منوانا نہیں۔ قیامت کے دن دیدار ہوگا : (عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَنَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃً یَعْنِی الْبَدْرَ فَقَالَ إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ہٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُّونَ فِی رُؤْیَتِہٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلوۃ، باب فضل صلاۃ العصر] ” حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاند کی طرف دیکھا جو کہ چودھویں کا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ تم عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ تم اس کو دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا کسی آنکھ کے بس کی بات نہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ سکتا ہے۔