سورة الانعام - آیت 95

إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک اللہ دانے اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے، وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے، یہی اللہ ہے، پھر تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ زمین میں پڑے ہوئے دانے کو اگاتا اور نکالتا ہے۔ اسی طرح وہ مردہ انسان کو قبر سے زندہ کرکے نکالے گا۔ اب مسلسل آیات میں نباتات، آفاق اور دیگر حوالوں سے توحید باری تعالیٰ کے دلائل دیے جاتے ہیں۔ زندگی کی پیدائش اور حرکت ایک معجزہ ہے جسے پیدا کرنا ایک طرف، اس کے بھید کو بھی کوئی نہیں پا سکتا۔ زمین میں ہر لحظہ دانوں سے پھوٹ پھوٹ کر تنا ور اور پھلنے پھولنے والے درخت نکلتے ہیں۔ خاموش، ساکن، اور سوکھی گٹھلیوں سے بلند کھجوریں پھوٹتی ہیں۔ جو زندگی دانے اور گٹھلی میں پوشیدہ ہے وہ پودے اور کھجور میں آکرظاہر اور متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کا بھید ایک سر بستہ راز ہے جسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ حیات کی حقیقت اور اس کا مصدر صرف خالق کو معلوم ہے۔ انسان آج بھی پہلے انسان کی مانند ظواہر و اشکال کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے خصائص و اطوار کا مشاہدہ تو کرسکتا ہے مگر اس سے پہلے انسان کی طرح اس کے غیب سے پردہ نہیں اٹھا سکتا۔ حرکت و نشو و نما کو دیکھتا ہے مگر مصدر اور جو ہر سے ناواقف ہے۔ لیکن زندگی اپنی راہ پر رواں دواں ہے، اور معجزہ ہر لحظہ واقع ہو رہا ہے۔ زندہ کا مردہ سے نکلنا شروع سے چلا آیا ہے، یہ کائنات تھی، زمین تھی مگر اس میں حیات نہ تھی۔ پھر زندگی آئی جس کو موت میں سے نکالا گیا کیسے نکالا گیا ؟ ہم نہیں جانتے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کہ زندگی موت سے اور زندہ مردہ سے نکل رہا ہے ! ہر لحظہ ذرات زندوں کے اجسام و اعضا کا حصہ بن رہے ہیں اور زندہ خلیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ پھر اس کے برعکس ہر لحظہ زندہ خلیے مردہ ذروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ حتی کہ ایک دن پورا زندہ جسم مردہ ہوجاتا ہے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قادر نہیں۔ ابتدا میں موت سے زندگی نکالنے والا وہی تھا، پھر مردہ ذرات کو انسانی اجسام کا حصہ بنا کر زندہ کرنے والا بھی وہی ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس کی ابتداء و انتہا اور اس کی کیفیت و نتائج کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ اس میں کسی کاذرہ بھر دخل نہیں ہے۔ سب کچھ اسی قادر و علیم کی قدرت و علم سے ہو رہا ہے۔ زندگی اللہ کی صفت خلق سے وجود میں آئی۔ اس کے سوا اس کی جو تعبیر بھی کی جائے وہ غلط اور باطل ہے۔ یورپ کے لوگ جب سے کلیسا سے بھاگے ہیں ’ ’ گویا کہ وہ گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہوں“ اسی دن سے وہ کائنات کی موت و حیات کی پیدائش کا راز معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے وجود کا اعتراف کرنا چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے ان کوششوں کا نتیجہ صفر ہے۔ حیات پر جدید تحقیق کے نتائج : ڈاکٹر فرینک ایلن جو کینیڈا کی ایک یونیورسٹی کا بیالوجی کا پروفیسر ہے کہتا ہے : (مقالہ): ” علم کی نشو ونما اتفاقاً ہوئی ہے یا قصداً ؟“ اس کا ترجمہ ڈاکٹر ترشاش عبدالمجید سرمانی ” اگر زندگی کسی حکمت سے اور کسی سابق منصوبے سے پیدا نہیں ہوئی تو، پھر یہ اتفاقاً پیدا ہوئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اتفاق کونسا ہے ؟ تاکہ ہم اس پر غور کریں اور زندگی کی پیدائش کا پتہ چلائیں۔ اتفاق اور احتمال کے نظریات کی اب کچھ درست حسابی بنیادیں موجود ہیں۔ جو انھیں ان معاملات پر منطبق کرتی ہیں۔ جہاں مطلق صحیح حکم نہ لگایا جا سکے۔ یہ نظریات ہمیں ایسے فیصلے پر پہنچاتے ہیں جو درستی سے قریب تر ہو، ریاضی کے طریقے سے اتفاق اور احتمال کا نظریہ تحقیق کے لحاظ سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ حتی کہ ہم بعض ظواہر کی پیشگوئی پر قادر ہوچکے ہیں۔ جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ اتفاق سے واقع ہوتے ہیں۔ بعض ایسی چیزیں جن کے وقوع کی ہم کوئی اور تفسیر نہیں کرسکتے۔ ان تحقیقات کی ترقی کے باعث ہم اس پر قادر ہیں کہ اتفاقاً واقع ہونے والی چیزوں میں اور ان میں جن کا اس طرح وقوع ناممکن ہے، تمیز کرسکیں۔ ہم زمانے کی ایک معین مدت میں اس وقوع کا احتمال ظاہر کرسکتے اب ہم اس چکر کو دیکھتے ہیں جو زندگی کی پیدائش میں اتفاقات کے کھیل سے ہوتا ہے۔ (معلوم رہے کہ یہ ڈاکٹر فرینکلن کا خیال ہے ورنہ اسلامی نقطۂ نظر سے کائنات میں کوئی چیز بھی اتفاقیہ طور پر نہیں ہوتی۔ ہر ایک ضابطہ، قانون وقوت، جگہ وغیرہ خدا کے ہاں مقرر ہے اور سب کچھ لگے بندھے قوانین کے مطابق ہو رہا ہے۔) تمام زندہ خلیوں میں پرو ٹین بنیادی مرکب ہے اور اس میں پانچ عناصر ہوتے ہیں : کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن اور سلفر اور ایک جزء میں ذرات کی تعداد ٤ لاکھ تک ہوتی ہے۔ چونکہ کیمیاوی عناصر کی تعداد ١٠٠ سے زائد ہے، ہر ایک کو اندازے کی غیر مرتب تقسیم پر بانٹا گیا ہے۔ پس ان پانچ عناصر کا اجتماع تاکہ وہ پروٹین کے جزئیات میں سے ایک جزیہ بن جائے، اس مادے کی کمیت کو معلوم کرنے کے لیے اس کا حساب معلوم کیا جا سکتا ہے۔ جس کو ہمیشہ کے لیے باہم ملایا جائے تاکہ وہ جزئی حاصل ہو سکے، پھر زمانے کا فاصلہ بھی معلوم ہوسکتا ہے تاکہ اس جزئی کے درجات میں اجتماع ہو سکے۔ مشہور ریاضی دان عالم شارنر یوجین نے تمام عوامل کا حساب کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ اتفاقیہ طور پر ایک پروٹین جزئی کا بننا ١٠؍١ کی نسبت سے ہوسکتا ہے۔ یعنی ایک کو دس تک ہر ہندسے میں فی نفسہ ضرب دینا ١٦٠ بار اور یہ ایک ایسی رقم ہے جس کا بولنا یا کلمات میں اس کی تعبیر کرنا ناممکن ہے۔ مناسب ہے کہ اس تفاعل کے لیے جتنا مادہ ضروری ہے تاکہ ایک جزئی پیدا ہو سکے۔ یہ اس ساری کائنات سے لاکھوں کروڑوں مرتبہ زیادہ ہوگا اور زمین پر صرف ایک جزئی کو پیدا کرنے کے لیے۔۔ یعنی اتفاقیہ طور پر پیدا کرنے کے لیے۔۔ لا انتہا سالوں کی ضرورت ہوگی۔ جسے اس عالم ریاضی نے اندازًا یہ بتایا ہے کہ دس کو اس کے نفس میں ٢٤٣ بار ضرب دی جائے تو اتنے سال لگیں گے۔ پروٹین لمبے سلسلوں کے ساتھ اپنی کھٹائیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ سو ان جزئیات کے ذریعے کس طرح تالیف پاتے ہیں ؟ جب وہ اس طریقے کے علاوہ مرکب ہوں جس سے وہ ہوتے ہیں تو زندگی کے قابل نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ زہربن جاتے ہیں۔ جے بی سیتھر نے وہ طریقے شمار کیے ہیں جن سے کہ ذرات کا پروٹین کے ایک بسیط جزئی میں مرکب ہونا ممکن ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ دس کو اسی طرح فی نفسہ ١٨ سے ضرب دیں تو اتنے ملین اس کی تعداد ہوگی۔ اس بنا پر یہ عقلاً محال ہے کہ یہ تمام اتفاقات ایک بھی پروٹین کو پیدا کرسکیں۔ لیکن پروٹین کیمیاوی مردہ مادہ ہے اور اس میں زندگی اس وقت رینگتی ہے جب وہ عجیب بھید اس میں داخل ہوتا ہے۔ جس کی حقیقت کو ہم نہیں جانتے۔ وہ ایک غیر محدود عقل ہے (اس سے اس کی مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ ایک فلسفیانہ نام ہے) اور وہ اکیلا خدا ہے جو اپنی حکمت کے ساتھ یہ پا سکتا ہے کہ یہ پروٹینی جزئی زندگی کا مسکن بن سکتی ہے، سو اس نے اس کو بنایا، اس کی تصویر کھینچی، اور اس پر زندگی کا بھید انڈیل دیا۔ مشی گن یونیورسٹی کا علوم طبیعات کا پروفیسر ڈاکٹر ایرفنگ ولیم اپنے مقالے :” مادیت تنہا کافی نہیں“ (جو اسی نام کی کتاب میں وارد ہے !) میں لکھتا ہے : ” سائنس ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ نہایت چھوٹے چھوٹے غیر محدوددقائق کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انھی سے تمام مادے بنتے ہیں۔ اسی طرح سائنس ہم پر یہ کھولنے سے بھی قاصر ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرے کیونکر جمع ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کیونکر آتی ہے۔ اس کا مدار محض اتفاقات پر ہے۔ بے شک یہ نظریہ جو دعویٰ کرتا ہے کہ ترقی یافتہ حیات کی تمام صورتیں موجودہ ترقی کی حالت تک محض اندھا دھند چھلانگوں اور اجتماعات کے باعث پہنچی ہیں بلاشبہ ایک نظریہ ہے مگر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا، صرف فرض کیا جا سکتا ہے۔ پس یہ منطق اور دلیل کی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ ڈاکٹر مالکوم ونسٹر پروفیسر زوالوجی بائلر یونیورسٹی اپنے مقالے : ” سائنس میرے ایمان کو مضبوط کرتی ہے“ میں لکھتا ہے کہ : میں زوالوجی کے مطالعہ میں مشغول ہوا۔ جو ان وسیع علمی میدانوں میں سے ہے جو علم الحیاۃ سے بحث کرتے ہیں۔ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اللہ کی ساری مخلوقات میں کائنات میں بسنے والی کوئی چیز زندوں سے زیادہ حیران کن نہیں ہے۔ تم کسی راستے کے کنارے پر اگی ہوئی کمزور سی برسیم کو دیکھو، کیا تمھیں انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزوں اور آلات میں اتنی تابناک چیز نظر آتی ہے ؟ یہ ایک زندہ آلہ ہے جو دن رات ایک دائمی صورت میں کھڑا رہتا ہے۔ اس میں ہزار ہا کیمیاوی اور طبیعی عمل پائے جاتے ہیں۔ اور یہ سب پروٹو پلازم کی قوت کے تحت پورے ہوتے ہیں۔ یہ وہی مادہ ہے جو تمام زندہ کائنات کی ترکیب میں داخل ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ پیچ در پیچ زندہ آلہ کہاں سے آیا ہے ؟ اللہ نے اس کو یوں اکیلا نہیں بنایا۔ بلکہ اس نے حیات کو پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کی حفاظت پر اسے قادر بنایا ہے۔ یہ کہ وہ ایک نسل سے دوسری نسل تک برابر چلتا ہے اور ان تمام خاصیتوں اور امتیازات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جو ہمیں ایک نبات اور دوسری میں تمیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ زندہ چیزوں میں کثرت کا مطالعہ کرنا نہایت عجیب اور چونکا دینے والا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت ظاہر ہوئی ہے۔ جدید نبات جس تناسلی خلیے سے بار آور ہوتی ہے وہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ طاقتور خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ نباتات کی صفات میں سے ہر صفت، ہر رگ، و ریشہ، ہر شاخ، ہر بیج یا پتہ ان انجینئروں کے زیر نگرانی بنتا ہے جو نہایت چھوٹے ہیں۔ وہ اس خلیے کے اندر رہ سکتے ہیں جس سے نبات پیدا ہوتی ہے۔ انجینئروں کا یہ فرقہ کروموسوم کہلاتا ہے۔ (یعنی وراثت کو نقل کرنے والے) حیات اور حیاتیات پر اسی قدر بات چیت کے بعد اب ہم قرآنی آیات کی طرف لوٹتے ہیں۔ (ذلکم اللّٰہ ربکم)[ الانعام : ١٠٢] ” یہ ہے تمھارا اللہ تمھارا رب“ جو اس دائمی مسلسل و متواتر معجزے کا موجد ہے۔ وہی اس کا حق دار ہے کہ تم اس کے آگے جھکو۔ اس کی عبودیت، خضوع، خشوع اور اتباع کا اقرار و اعلان کرو۔ پھر فرمایا : ” پھر تم کہاں اور کیونکر پھرائے جاتے ہو ؟“ (ظلال القرآن) مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی بے جان سے جاندار چیزوں کو پیدا کرتا ہے۔ ٢۔ زندگی وموت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھتے ہی اپنا ایمان پختہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ“ نباتات اگانے والا ہے : ١۔ اللہ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ ( النحل : ١١) ٢۔ اللہ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنوں : ١٩) ٣۔ اللہ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ ( یٰسٓ: ٣٤) ٤۔ اللہ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ ( الانعام : ٩٩) ٥۔ اللہ نے باغات، کھجور کے درخت اور کھیتی پیدا کی جو ذائقہ کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ( الانعام : ١٤١)