سورة الانعام - آیت 92

وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے اور تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد لوگوں کو ڈرائے اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : تورات اور انجیل کے بعد قرآن مجید مبارک کتاب ہے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا آخری سرچشمہ ہے جو پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتی ہے۔ یہودی عصبیت کی بنا پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن مجید کے نزول کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن تورات سمیت آسمانی کتابوں کی تصدیق اور تائید کرتا ہے اور لوگوں کے لیے باعث برکت ہے۔ قرآن مجید کتب آسمانی کی تائید و تصدیق کرنے کے ساتھ نہایت ہی مبارک کتاب ہے۔ کائنات کے انسانوں کے لیے ہدایت کا منبع، روشنی کا سرچشمہ اور حکمت و دانش کا مہرتاباں ہے اگر یہود ہٹ دھرمی کی بنا پر مسلسل انکار کر رہے ہیں تو اے رسول ان پر صلاحیتیں صرف کرنے کے بجائے آپ اہل مکہ اور اس کے چاروں طرف بسنے والے لوگوں کو ڈرائیں اور سمجھائیں اور ان مسلمانوں کو جو آخرت کے حساب و کتاب پر یقین رکھتے اور پنجگانہ نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس آیت میں مکہ معظمہ کو ام القریٰ کا درجہ دیا گیا ہے ام القریٰ کا معنی ہے ” بستیوں کی ماں۔“ سورۃ آل عمران کی آیت ٩٦ سے اشارہ ملتا ہے کہ یہی مبارک بستی ہے جو سب سے پہلے دنیا میں معرض وجود میں آئی حدیث میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ زمین کے پیدا ہونے سے پہلے آسمان کے نیچے پانی ہی پانی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو صفحۂ ہستی پر آنے کا حکم دیا۔ سب سے پہلے زمین کا جو حصہ ظہور پذیر ہوا۔ وہ مکہ معظمہ کی سرزمین تھی اس اعتبار سے بھی مکہ ام القریٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں آخری نبی کی بعثت کی دعا کی تھی اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ تبلیغ کا نیٹ ورک ایسا ہونا چاہیے جس میں ایک مبلغ اپنے نفس کے بعد اپنے اعزاء و اقرباء، اڑوس پڑوس اور اپنے ہم وطنوں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائے۔ یہ حقوق انسانی اور فطری تقسیم کے عین مطابق ہے پھر تبلیغ کے سلسلہ میں ان لوگوں پر خاص توجہ دے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو منوانا دوسروں کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ آخرت پر یقین رکھنے والے ہی نماز کی حفاظت کا التزام کرتے تھے کیونکہ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب کا مؤثر ذریعہ ہے اور نماز اس بات کا احساس دلاتی ہے جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرنے کے بعد اس کی بارگاہ میں عاجز اور سرافگندہ ہو کر کھڑے ہوں گے۔ قرآن مجید کے نفاذ کی برکات : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَدٌّ یُعْمَلُ بِہٖ فِی الْأَرْضِ خَیْرٌ لِأَہْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ یُمْطَرُوا أَرْبَعِینَ صَبَاحًا) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الحدود، باب اقامۃ الحد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ حد کو زمین پر نافذ کرنا اہل زمین کے لیے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔“ قرآن مجید کی تلاوت کا ثواب : (عن عَبْد اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَاب اللّٰہِ فَلَہُ بِہٖ حَسَنَۃٌ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِہَا لَا أَقُول الم حَرْفٌ وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیمٌ حَرْفٌ) [ رواہ الترمذی : کتاب فضائل القران] ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا اس کے لیے دس نیکیوں کے برابر ثواب ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل دوسرا حرف ہے اور میم تیسرا حرف ہے۔“ تبلیغ کی ترتیب : (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ قَامَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی الصَّفَا فَقَالَ یَا فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَا صَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنْ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِءْتُمْ) [ رواہ مسلم : کتاب الایمان، باب فی قولہ تعالیٰ وانذر عشیرتک الأقربین] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی ” اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا اے فاطمہ میری بیٹی، اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے عبدالمطلب کے خاندان کے لوگو ! مجھ سے مانگ لو لیکن اللہ کے ہاں میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا۔“ نماز کی فرضیت اور فضیلت : (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ وَ رَمَضَانُ اِلٰی رَمْضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَاءِرُ)[ رواہ مسلم : کتاب الطہارۃ، باب الصلوات الخمس] ” ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان درمیانی مدّت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔ بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔“ مسائل ١۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ ٢۔ قرآن مجید بابرکت کتاب ہے۔ ٣۔ قرآن مجید پہلے انبیاء و رسل کی تصدیق کرتا ہے۔ ٤۔ مکہ مکرمہ دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا۔ ٥۔ قرآن مجید کے ماننے والے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔