سورة الانعام - آیت 74

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے؟ بے شک میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی بے ثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی تربیت آپ کے چچا نے کی۔ چچا بمنزلہ باپ کے ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے آزر کو ابیہ کے نام سے پکارا ہے۔ دوسرے صاحب قلم کا عندیہ ہے کہ آپ کے والد کا اصلی نام تارخ تھا۔ لیکن وہ محب صنم ہونے کی وجہ سے آزر کہلایا۔ کیونکہ عربی میں محب صنم کو آزر کہا جاتا ہے۔ تیسرے مؤرخ نے تطبیق کا راستہ تلاش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے باپ کا اصلی نام تارخ اور وصفی (پیشہ وارانہ) نام آزر تھا۔ لیکن قرآن مجید ان تکلفات سے پاک ہے اور واضح طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزربتارہا ہے لہٰذا ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو آزر ہی کہیں گے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بت تراش کر بازار میں فروخت کیا کرتے تھے یہ بات غلط ہے کیونکہ جدید تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ کے والد مذہبی پیشوا اور اس زمانے کی حکومت میں مرکزی کابینہ کے رکن ہونے کی بنا پر حاکم وقت اور عوام الناس میں انتہائی احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت : تورات کے نسخہ سجینہ کا جو ترجمہ عبرانی سے یونانی میں تین سو سال قبل مسیح کیا گیا اور جس میں نامور دانشور یہودی شریک تحقیق ہوئے ان کے حوالے سے ماہر اثریات سر چارلس مارسٹن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سن ولادت ٢١٦٠ قبل مسیح تحریر کیا ہے۔ آپ کی عمر مبارک ١٧٥ سال تھی چنانچہ مذکورہ تحقیق کے مطابق آپ کی وفات پر ملال ١٩٨٥ قبل مسیح قرار پائی۔ تاہم یہ تحقیق حتمی حیثیت نہیں رکھتی۔ جدیدتحقیق میں نہ صرف وہ شہر معلوم ہوگیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی بلکہ آپ کے دورکے حالات و واقعات قدرے تفصیل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ آپ جنوبی عراق میں دریائے فرات کے کنارے واقع شہر ار میں پیدا ہوئے جس کو موجودہ جغرافیہ کی زبان میں تل ابیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر کی آبادی کا ڈھائی لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک اندازہ کیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے کھنڈرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا مقصد دولت کمانا، سود خوری اور مقدمہ بازی مشغلہ تھا۔ گویا کہ اخلاقی اور اعتقادی اعتبار سے یہ قوم تباہی کے گڑھے پر کھڑی تھی۔ اس وقت کے مذہبی حالات کا آپ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے شہر ار میں پانچ ہزار خداؤں کے نام دریافت کیے گئے ہیں۔ دوسرے شہروں اور قصبات کے الگ الگ خدا مقرر تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص خدا ہوتا تھا، جس کو رب البلد یعنی خداۓ شہر کہتے تھے۔ ظاہر ہے لوگ اس کا احترام دوسرے خداؤں سے زیادہ کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر ار کا بڑا خدا ننار تھا (چاند دیوتا) اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے اس شہر کا نام قمرینہ بھی لکھا ہے۔ ننار کا بت شہر میں سب سے اونچی جگہ رکھا گیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی اس کی بیوی (نن گل) کا معبد تھا۔ لوگ بتوں، مزاروں کے سامنے مراقبے کرتے، سجدہ ریز ہوتے اور طواف کرتے تھے۔ ننار کی شان شاہی محل سرا کی تھی۔ یہاں ہر وقت نئی عورتیں آکر ٹھہرتی۔ یہاں بہت سی عورتوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ وہ عورت بڑی محترم سمجھی جاتی تھی جو اپنی چادر عفت کو یہاں قربان کردیتی۔ اس مزار کے نام بہت سے رقبے وقف تھے جن کی آمدنی مجاور ہی استعمال کرسکتے تھے۔ اس شرک و خرافات کی یلغار اور بھرمار میں رب کریم کا فضل و کرم جوش میں آیا۔ اس نے شرک ورسومات کے مرکز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ اس کی قدرت کا کرشمہ اور سنت قدیمہ ہے کہ جب بھی برائی حد سے بڑھنے لگتی ہے تو رب کبریا حق و باطل کا معرکہ برپا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چہرۂ مبارک : واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ شخصیت بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے تعارف کرواتے ہوئے فرمایا۔ (ہٰذَا اَبُوْکَ اِبْرَاہِیْمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ)[ مشکوۃ: باب فی المعراج ] ” یہ آپ کے والد گرامی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں آپ آگے بڑھ کر سلام عرض کریں چنانچہ میں نے سلام کیا۔“ جواباً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کہتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (قَالَ مَرْحَبًا لاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیّ الصَّالِح)ِ[ مشکوۃ: باب فی المعراج ] ” خوش آمدید (جی آیاں نوں) نیک بیٹا اور نبی صالح بھی۔“ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کا ذوق و شوق دیکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے رخ زیبا کا اندازہ لگانا ہو وہ مجھے دیکھ لے۔ (قَالَ أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء] جیسا کہ ابھی ابھی ذکر کیا گیا ہے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ صنم پرستی کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے بھی قائل تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معبود ان ارضی کے ساتھ معبودان فلکی (چاند سورج، ستاروں) کی پر زور تردید کی جائے۔ لیکن اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا۔ کہ شرک کا مریض، یکایک بدک نہ جائے، کیونکہ مریض شرک بہت جلد باز اور ہلکی طبیعت کا واقع ہوا ہے۔ جب بھی اس کو محسوس ہوجائے کہ نسخہ توحید کے ساتھ میرا علاج ہونے والا ہے تو پہلے ہی بھاگنا اور منہ بسورنا شروع کردیتا ہے۔ (وإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِا لْاٰ خِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ إِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ) [ الزمر : ٤٥] ” جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت کے منکروں کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ جب اس کے علاوہ دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو یکایک خوشی سے کھل جاتے ہیں۔“ حضرت خلیل (علیہ السلام) نے نہایت اچھے اور دلچسپ انداز میں توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ یہ انداز بیان ان کی زبردست معجزانہ فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کا مرقع ہے۔ جب شام ہوئی تو پردۂ ظلمت سے ستارے درخشاں ہوئے تو اپنی قوم کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ میرا رب ہے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد چمکتا ہوا ستارہ ڈوب گیا۔ فرمایا ڈوبنے والا رب نہیں ہو سکتا۔ پھر چاند نمودار ہوا، فرمایا یہ ہے میرا رب، لیکن چاند بھی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ صبح ہوئی اور مہر جہاں روشن ہوا، فرمایا یہ میرا رب ہے یہ ان سب سے بڑا ہے، لیکن سورج کو دوام اور روشنی کو بھی قرار نہیں۔ پہلے بڑھ رہی تھی، دوپہر کے بعد ڈھلنے لگی شام کو سورج غروب ہوگیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکارا ٹھے یہ سب محکوم و مجبور اور بے بس ہیں ان کو لانے اور لے جانے والا حقیقی مالک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اب ان کا مکالمہ قرآن کے الفاظ میں سنیے! ” اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے زمین و آسمان کا نظام حکومت دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں ہوجائے۔ چنانچہ جب رات چھاگئی، تو اس نے ایک تارا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ تارا ڈوب گیا تو کہنے لگے میں ڈوبنے والے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ جب چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا۔ اگر میرا رب مجھے ہدایت سے نہ نوازتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوتا۔ پھر سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے۔ اور یہ ان سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اے برادران قوم میں بری ہوں، ان سے جن کو تم شریک بناتے ہو۔ میں نے تو اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں کا سا تھی نہیں ہوں۔ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ساتھ جھگڑتے ہو۔ حالانکہ اس نے مجھے صراط مستقیم دکھائی، میں تمھارے بنائے ہوئے معبودان باطل سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب میرا نقصان چاہے تو ضرور نقصان ہوجائے گا۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے کیا اب بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے ؟ آخر تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ہم دونوں فریقوں میں کون امن و سلامتی کا حق دار ہے۔ بتاؤ اگر کچھ علم رکھتے ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا، حالانکہ اس خطاب کے سیاق و سباق سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے ان کو معبود تصور کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید واقعہ کے آخر میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے۔ کہ ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے خلاف دلائل دیے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں یقیناً تیرا رب حکیم و علیم ہے۔ (وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرَاھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْن)[ الانبیاء : ٥١] ” ہم نے ابراہیم کو ابتداء ہی سے ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔“ ارشاد الٰہی سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتدا سے ہی رشد و ہدایت حاصل ہوچکی تھی، بقول بعض مفسرین، اگر پھر بھی وہ ستارے اور چاند سورج ہی کو معبود تصور کر رہے تھے تو وہ ہدایت کیا تھی جو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے عطا فرما رکھی تھی۔ چاند، سورج کی حیثیت : (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ )[ یٰس : ٣٩۔ ٤٠] ” سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ جو زبردست علیم ہستی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں، یہاں تک کہ ان منزلوں سے گزرتا ہوا بالآخر وہ کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی کی مانند پتلا ہوجاتا ہے نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ہر ایک اس فضا میں تیر رہا ہے۔ (یٰسین : ٣٨ تا ٤٠) (قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلَہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآء أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فیہِ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ)[ القصص : ٧١، ٧٢] ” آپ فرما دیں کیا تم نے غور نہیں کیا اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر رات کو لمبا کر دے۔ کون ہے جو اللہ کے سوا رات کو بدل کر دن کی روشنی لے آئے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ آپ اعلان کردیں ! غور کرو اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر دن چڑھائے رکھے کون ہے جو اس کے بغیر دن کو رات میں بدل دے، جس میں تم آرام کرتے ہو ؟ کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے ؟“ (وَمِنْ اٰیٰتِہٖ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ) (حٰمٓ السجدۃ: ٣٧) ” رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج چاند کو سجدہ نہ کر وبلکہ اس ذات کبریاء کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر واقعتا تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود بنانا کھلی گمراہی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت دکھائی۔ ٣۔ شرک اور مشرکوں سے برأت کا اعلان کرنا سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روشن باب ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ : ١۔ آپ ابراہیم کا قرآن سے تذکرہ فرمائیں وہ سچے نبی تھے۔ (مریم : ٤١) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ (النساء : ١٢٥) ٣۔ تمھارے لیے ابراہیم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ : ٤) ٤۔ اے نبی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النساء : ١٢٥) ٥۔ ہم نے آپ کو وحی کی کہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النحل : ١٢٣) ٦۔ آپ ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق بتلائیں۔ (الحجر : ٥١) ٧۔ یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) تحمل مزاج، آہ وزاریاں کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (ہود : ٧٥) ٨۔ بے شک ابراہیم (علیہ السلام) آہ وزاریاں کرنے والے اور متحمل مزاج تھے۔ ( التوبۃ: ١١٤)