سورة الانعام - آیت 35

وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور اگر تجھ پر ان کا منہ پھیرنا بھاری گزرا ہے تو اگر تو کرسکے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ نکالے، پھر ان کے پاس کوئی نشانی لے آئے (تو لے آ) اور اگر اللہ چاہتا تو یقیناً انھیں ہدایت پر جمع کردیتا۔ پس تو جاہلوں میں سے ہرگز نہ ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے ساتھ ایک حقیقت بتلائی گی ہے کہ تمام کے تمام انسان سچائی پر اکٹھے نہیں ہوا کرتے۔ لوگوں کی ہدایت کے بارے میں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جذبات کا جواب جس میں ایک طرح کی آپ کو تسلی دینے کے ساتھ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح وشام اس تڑپ اور کوشش میں تھے کہ کسی طرح یہ لوگ ہدایت سے ہم کنار ہوجائیں۔ اس کے لیے بحیثیت ایک انسان اور داعی کے یہ خیالات پیدا ہوتے تھے کہ کاش اللہ تعالیٰ کفار کے مطالبات کو من و عن پورا فرما دے تاکہ کوئی شخص بھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اہل مکہ نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ زمین میں سرنگ لگا کر ہمارے لیے اس کے مدفون خزانے لائیں جیسا کہ انھوں نے نہروں اور باغات کا مطالبہ بھی کیا تھا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھیں اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کوئی ایسا معجزہ لائیں جس کا انکار کرنا ہمارے لیے ناممکن ہو۔ اس ضمن میں وہ یہاں تک مطالبہ کرتے تھے کہ ایسی کتاب لائی جائے جسے ہم اپنے ہاتھوں کے ساتھ اچھی طرح ٹٹول کر یقین کرلیں کہ واقعی یہ آسمانوں سے لائی ہوئی کتاب ہے۔ (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِأَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوْٓ اْ إِنْ ہٰذَٓا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ)[ الأنعام : ٧] ” اور اگر ہم کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب آپ پر نازل کرتے، پھر یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے تو جن لوگوں نے کفر کیا ہے یہی کہتے کہ یہ صاف جادو ہے۔“ کفار کی ہٹ دھرمی بتلانے کے لیے آپ کو یوں خطاب فرمایا گیا ہے کہ اے رسول ! آپ پر ان لوگوں کا اعراض و انکار اس قدر گراں گزرتا ہے اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ زمین میں اتر جائیں یا آسمان پر چڑھ جائیں اور ان کے سامنے ان کے حسب منشاء معجزات لے آئیں تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اگر اس طرح لوگوں کو منوانا مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور سب کو ہدایت پر جمع کردیتا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے طریقہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا سب کو ہدایت پر جمع کرنے کی خواہش رکھنا جاہلوں کا شیوہ ہے۔ جس کی آپ سے توقع نہیں ہو سکتی، لہٰذا آپ کی سوچ کا انداز ایسا نہیں ہونا چاہیے یہاں مضمر الفاظ میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا کام حق بات لوگوں تک پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ آپ جس قدر بھی کوشش کرلیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ یہ سنتے ضرور ہیں لیکن ان کے دل مردہ ہونے کی وجہ سے مردوں جیسے ہوچکے ہیں۔ جس طرح مردے قیامت کو اٹھائے جائیں گے اس سے پہلے مردوں کا اٹھنا اور ان کا سننا مشکل ہے۔ اسی طرح کفار کا حق بات سننا اور اس کو قبول کرنا مشکل ہے۔ البتہ جو آدمی حق بات کو دل کے کانوں سے سنتا ہے وہ ضرور اس کو قبول کرتا ہے۔ مسائل ١۔ منکرین حق کی باتوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے ٢۔ صاحب بصیرت لوگ ہی دعوت حق قبول کرتے ہیں۔ ٣۔ ہٹ دھرم لوگ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا : ١۔ آپ فرما دیں کہ تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (التغابن : ٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اٹھائے گا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ صادر فرمائے۔ (الانعام : ٦٠) ٣۔ تمام مردوں کو اللہ اٹھائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦) ٤۔ قیامت کے دن اللہ سب کو اٹھائے گا پھر ان کے اعمال کی انھیں خبر دے گا۔ (المجادلۃ: ٦ تا ١٨) ٥۔ موت کے بعد تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : ٧)