سورة المآئدہ - آیت 61

وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَد دَّخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ یقیناً وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور یقیناً اسی کے ساتھ وہ نکل گئے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اپنی طبیعتوں کی مکاری کی وجہ سے اہل کتاب گناہ، ظلم اور حرام خوری میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت اور اس کے غضب میں مغضوب لوگوں کی شکلیں تبدیل نہ بھی ہوں تو بھی برے اعمال کی وجہ سے شیطان کے بندے اور غلام بن جاتے ہیں۔ جس وجہ سے وہ کفر اور ایمان کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے ان کی اکثریت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ، زیادتی اور اکل حرام میں بڑے مستعد اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور اسلام میں امتیاز نہیں کرتے اور اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ ان کا کردار لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ جس کے متعلق انہیں انتباہ کیا گیا ہے ہوسکتا ہے تمہارا برا کردار مومنوں کی نظروں سے اوجھل رہ جائے۔ لیکن یاد رکھنا تمہاری کوئی حرکت اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے اللہ تمہارے جھوٹے دعوے کو خوب جانتا ہے۔ جس کا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اظہار کرتے ہو۔ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم ایمان کا اظہار کر رہے ہوتے ہو تو اس وقت بھی تم کفر کی حالت میں ہوتے ہو۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے اٹھ کر جاتے ہو تب بھی تم کفر ہی میں مبتلا ہوتے ہو۔ امام رازی (رض) نے ” اثم“ سے مراد عام گناہ لیا ہے اور ” عدوان“ کا معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ ایسا گناہ جس کے اثرات لوگوں پر مرتب ہوتے ہوں اور اس میں زیادتی کا عنصر بھی پایاجائے۔” سحت“ کا معنی رشوت اور حرام خوری کیا گیا ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرَّاشِیَ وَالْمُرْتَشِیَ)[ رواہ الترمزی : کتاب الاحکام عن رسول اللہ، باب ماجاء فی الراشی والمرتشی] ” حضرت عبداللہ بن عمر و بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“ مسائل ١۔ محض زبانی دعویٰ کرنے سے کوئی شخص مومن نہیں بنتا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے۔ ٣۔ اہل کتاب کی اکثریت گناہ اور زیادتی کے کاموں اور حرام خوری میں تیز ہے۔ ٤۔ گناہ وزیادتی اور حرام خوری برے عمل ہیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے : ١۔ اللہ ہی غیب کا جاننے والا ہے۔ (الجن : ٢٦) ٢۔ کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے۔ (التوبۃ: ٧٨) ٣۔ غیب کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (الانعام : ٥٩) ٤۔ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت ساری بھلائیاں اکٹھی کرلیتا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعلان۔ (الاعراف : ١٨٨) ٥۔ یہ غیب کی باتیں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ (ھود : ٤٩) ٦۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب نہیں جانتے۔ (ھود : ٣١) ٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں کہ ہر قسم کا غیب اللہ ہی جانتا ہے۔ (یونس : ٢٠)