سورة المآئدہ - آیت 57

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : یہود و نصاریٰ اور کفار سے قلبی تعلقات نہ رکھنے کے مزید تین اسباب : یہود ونصاریٰ اہل کتاب اور اہل مکہ کعبہ کے متولی اور ملت ابراہیم کے دعوے دار ہونے کے باوجود اسلام جیسے سچے دین، نماز جیسی افضل ترین عبادت اور اس کی پکار یعنی اذان کو کھیل تماشا اور استہزاء کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ (الانفال : ٣٥) میں ذکر ہوا ہے کہ جب مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔ ان کا خبث باطن اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ جب آپ بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے تو انھوں نے اونٹ کی بھاری بھرکم گندگی سے بھری ہوئی اوجڑی آپ کے کمر مبارک پر رکھ دی تھی۔ ان کی یہ باقیات سیئات فتح مکہ کے موقعہ پر بھی موجود تھیں۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو کعبہ میں اذان کہنے کا حکم دیا تو مکہ کے گلی کوچوں میں ابو محذورہ اور ان کے شریر ساتھی جو کہ اس وقت نو عمر تھے۔ حضرت بلال (رض) کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ ایک موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اذان کی نقل اتاری تو آپ نے کریمانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابو محذورہ کو بلایا اور سمجھایا۔ آپ کے مشفقانہ رویہ سے متاثر ہو کر ابو محذورہ نے کلمہ پڑھ لیا۔ تو آپ نے اسے بیت اللہ یعنی مسجد حرام کا مؤذن مقرر فرمایا۔ ” حضرت عبداللہ بن محیریز سے روایت ہے وہ یتیم تھے اور انھوں نے ابو محذورہ کے گھر پرورش پائی ابو محذورہ نے ان کو شام کی طرف بھیجا وہ کہتے ہیں میں نے ابومحذورہ سے کہا میں ملک شام کی طرف جا رہا ہوں اور مجھے خیال ہے کہ وہ لوگ مجھ سے آپ کی آذان کے متعلق پو چھیں گے تو میری رہنمائی کریں۔ ابو محذورہ نے کہا میں چند لوگوں کے ساتھ حنین کی طرف جا رہا تھا جبکہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے واپس پلٹ رہے تھے میری کسی راستے میں ان سے ملاقات ہوئی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مؤذن نے نماز کے لیے اذان کہی ہم نے مؤذن کی آواز سنی تو اس وقت ہم ان سے کچھ دور تھے ہم نے اذان کی نقل اتارتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز سنی تو ہمیں بلایا ہم آپ کے سامنے حاضر ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا میں نے تم میں سے کس کی اس قدر بلند آواز سنی ہے میرے ساتھیوں نے سچ بولتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا نبی اکر م نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے وہیں روکے رکھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کھڑے ہو کر اذان کہیے۔ رسول اکر م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اذان سکھائی فرمایا کہیے اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ پھر فرمایا اپنی آواز کو لمبا کرتے ہوئے دوبا رہ کہو أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللّٰہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاح اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہََ إِلَّا اللّٰہُ پھر آپ نے میرے لیے دعا کی جب میں نے اذان ختم کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے مکہ میں اذان کہنے کی اجازت فرمائیں۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تجھے اس پر مامور کرتا ہوں۔ میں عتاب بن اسید جو کہ مکہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقرر کردہ عامل تھے ان کے پاس گیا، پھر میں نے ان کے پاس مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطا بق اذان کہتا۔“ [ رواہ النسائی : کتاب الاذان، باب کیف الاذان] مسائل ١۔ ایمان والے دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں سے دوستی نہیں کرتے۔ ٢۔ ایمان والے صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ٣۔ کافر لوگ دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ٤۔ کفار حقیقتاً بے عقل ہوتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن بے عقل لوگ کون ہیں : ١۔ جنہوں نے دین کو ہنسی اور کھیل بنا لیا وہ عقل والے نہیں۔ (المائدۃ: ٥٨) ٢۔ اگر ہم سنتے اور عقل کرتے تو اہل جہنم سے نہ ہوتے۔ (الملک : ١٠) ٣۔ آپ ان کو اکٹھا گمان کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل جدا، جدا ہیں یہ قوم بے عقل ہے۔ (الحشر : ١٤) ٤۔ وہ لوگ جو آپ کو حجرات کے پیچھے سے بلاتے ہیں وہ بے عقل ہیں۔ (الحجرات : ٤) ٥۔ آپ فرما دیں سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اکثر لوگ عقل نہیں رکھتے۔ (العنکبوت : ٦٣) ٦۔ ہم نے جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارے لیے نصیحت ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (الانبیاء : ١٠) ٧۔ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے تم عقل کیوں نہیں کرتے۔ (القصص : ٦٠)