سورة البقرة - آیت 63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔ کیونکہ جبری ہدایت دیرپا نہیں ہوتی یہ اسی وقت تک رہتی ہے جب تک جبر کا ماحول قائم رہتا ہے۔ جونہی جبر کا خاتمہ ہوگا ہدایت کو دل سے قبول نہ کرنے والا انسان پھر گمراہی کی طرف پلٹ جائے گا۔ دائمی اور دیر پاہدایت وہی ہوتی ہے جو دل کی گہرائی اور عقل و شعور کی رسائی سے حاصل ہو۔ جبری ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے بنی اسرائیل کے واقعات نظر کشائی کے لیے کافی ہیں۔ یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی مسلسل نا فرمانیوں اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے سروں پر کوہ طورمنڈلا کر حکم دیا گیا کہ مانتے ہو یا پہاڑ گرا کر تمہیں زمین کے ساتھ چپکا دیا جائے۔ اس موقعہ پر حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نصیحت یاد کرو اور اللہ کا خوف اختیار کرتے ہوئے گناہوں سے بچ جاؤ۔ یہ لوگ اس وقت تو ایمان لے آئے لیکن جونہی ان کے سروں سے پہاڑ ٹل گیا وہ پہلے کی طرح سر کشی پر اتر آئے۔ اس عہد شکنی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے انہیں مہلت عطا فرمائی تاکہ وہ از خود اپنی اصلاح کی طرف پلٹ آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا اور اے بنی اسرائیل ! تمہیں مہلت نہ دی جاتی تو تمہارا انجام تو اسی وقت ہی بدترین ہوتا اور تم ہمیشہ کے لیے نقصان پانے والوں میں سے ہوجاتے۔ یہاں واقعہ تو ماضی کا بیان کیا جا رہا ہے لیکن ضمائر مخاطب کی استعمال کی گئی ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ تمہارے اور تم سے پہلے لوگوں کے اعمال ایک جیسے ہوچکے ہیں۔ اور تم اپنے آپ کو انہی کا جانشین سمجھتے اور ان کا دفاع کرتے ہو۔ اگر ان کے سروں پر پہاڑ رکھا جا سکتا ہے تو تم پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی قوت و سطوت سے کس طرح باہر ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی واضح ہوا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو مسلم اتھارٹی جبراً اسلام کے احکام پر عمل کر وا سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی حکومت پر حدود اللہ کا نفاذ فرض قرار دیا گیا ہے۔ جو حکمران اس کا نفاذ نہیں کرتے انہیں ظالم‘ فاسق اور کافر شمار کیا گیا ہے۔ [ المائدۃ: ٤٤ تا ٤٧] بچوں کو جبراً نماز پڑھانا چاہیے : (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ) (رواہ ابوداوٗد : کتاب الصلاۃ، باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ) ” حضرت عمر و بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں انہیں نماز کی وجہ سے سزا دو اور ان کے بستر جدا کر دو۔“ مسائل ١۔ ایمان کے دعوے دار کو جبراً عمل کروانا چاہیے۔ ٢۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے سے پرہیزگاری پیدا ہوتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ہر انسان گھاٹے میں ہے۔ تفسیر بالقرآن بنی اسرائیل کے منحرف ہونے کے واقعات : ١۔ اللہ کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ: ٦٤) ٢۔ اللہ کی عبادت، والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے، لوگوں کو اچھی بات کہنے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا عہد کرنے کے بعد انحراف کیا۔ (البقرۃ: ٨٣) ٣۔ اپنوں کا خون بہانے اور قتل نہ کرنے کے عہد کے بعد منحرف ہوگئے۔ (البقرۃ: ٨٥) ٤۔ قیدیوں کو رشوت دے کر چھڑانے کی ممانعت کے باوجود باز نہ آئے۔ (البقرۃ: ٨٥) ٥۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے کی ممانعت کے باوجود مچھلیاں پکڑنا۔ (البقرۃ: ٦٥)