سورة المآئدہ - آیت 18

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : ربط کلام : اب عیسائیوں اور یہودیوں کو مشترکہ خطاب ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے کہ جب کوئی فرد یا قوم شرک میں مبتلا ہوتی ہے تو اس کی گمراہی کی کوئی حد نہیں رہتی۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ دور کی گمراہی میں مبتلا ہوا۔ (النساء :116) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا گو یا وہ آسمان سے گرا اور پر ندوں نے اسے نوچ ڈالا یا وہ تیز ہواؤں نے اسے کسی گہری کھڈ میں دے مارا۔ (الحج :31) یہ شرک کی نحوست کا نتیجہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ٹھہرایا۔ اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا جزء قرار دیا پھر آگے چل کر مذہبی تقدس کی دھاک بٹھانے اور سیاسی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے بزعم خود اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہونے کا اعلان کیا۔ اور یہ بھی باور کرو ایا کہ ہم اس کے ایسے بیٹے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ بڑی محبت کرتا ہے۔ اس کے جواب میں ان پر اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسند یدہ لوگ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب اور ذلت میں کیوں مبتلا کرتا رہا اور کرتا ہے۔ کوہ طور کے دامن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود تمہارے ستر زعما کا ہلاک ہونا۔ جنھیں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے بدلے میں حیات نو سے نوازا گیا۔ اصحاب سبت پر پھٹکارکا نازل ہونا جس کے بدلے میں انھیں ذلیل بندر بنا دیا گیا۔ تمہارے سروں پرکوہ طورکا منڈلایا جانا۔ اس طرح دیگر عذابوں کا نازل ہونا اگر تم واقعی اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پسندیدہ لوگ ہو تو یہ عذاب تم پر کیوں نازل ہوئے؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی مشفق اور مہر بان باپ اپنی محبوب اور تابع فرمان اولاد کو اپنے ہاتھوں سے پر یشانیوں اور عذاب میں مبتلا کرے ؟ تم تو انسانوں کی طرح ہی انسان ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو پیدا کیا ہے۔ ایسے ہی اس نے تمہیں پیدا فرمایا۔ وہ جس کی چاہے خطاؤں کو معاف فرما دے اور جسے چاہے اس کی بد اعمالیوں کی سزا دے۔ زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اللہ کی ملک ہے اور ہر کسی نے اس کے ہاں پلٹ کر جانا ہے مسائل : 1۔ یہود و نصاریٰ اللہ کے محبوب اور اس کے بیٹے نہیں ہیں۔ 2۔ سزا و جزا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 3۔ زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے۔ 4۔ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہ جسے چاہے معاف فرمائے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا۔ تفسیر بالقرآن: زمین اور آسمان اللہ ہی کی ملکیت ہیں : 1۔ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے۔ (البقرۃ:107) 2۔ مالک الملک اللہ تعالیٰ ہے۔ (آل عمران :26) 3۔ اللہ جسے چاہتا ہے اسے حکومت دیتا ہے۔ (آل عمران :26) 4۔ اللہ جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ (آل عمران :26) 5۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہی ہے۔ (الشوریٰ :49) 6۔ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ (الملک :1) 7۔ اللہ ہی کے لیے زمین و آسمان کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے معاف کرے گا۔ (الفتح :14)