سورة النسآء - آیت 167

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا یقیناً وہ گمراہ ہوگئے، بہت دور گمراہ ہونا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے مشن کی مخالفت کرنے والوں کی سزا۔ کفر کا معنٰی ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا، شرعی اصطلاح میں اللہ اور اس کے رسول اور قیامت کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ سے مراد صراط مستقیم اور دین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی درج ذیل صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔ ١۔ خود کفر اختیار کرنا، اپنے کردار اور طریقۂ کار سے لوگوں کو دین سے روکنا۔ ٢۔ اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود جان بوجھ کر کفار جیسا عقیدہ اور کردار رکھنا جس سے لوگوں کی نظروں میں اسلام اور مسلمانوں کا وقار ختم ہوجائے ایسے لوگ بیک وقت کفر اور ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نہ انھیں معاف کرتا ہے اور نہ ہی صراط مستقیم کی توفیق دیتا ہے۔ ان کے پسندیدہ راستے پر چلنے کے لیے انھیں کھلا چھوڑ دیتا ہے جو راستہ جہنم کا راستہ ہے۔ اس جہنم میں انھیں ابدالاباد تک رہنا نافرمان بڑا ہو یا چھوٹا اسے جہنم میں پھینکنا اللہ تعالیٰ کے لیے ذرّہ برابر مشکل نہیں۔ یہاں ان کی نہ فریاد سنی جائے گی اور نہ کوئی ان کی مدد کرنے والا ہوگا۔