سورة الاخلاص - آیت 3

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ“ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے یہودیوں کی ہرزہ سرائی : یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ” اللہ“ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات اپنے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کو دے رکھے ہیں : (وَ قَالَتِ الْیَہُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰہِ ذٰلِکَ قَوْلُہُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ یُضَاہِءُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ) (التوبہ : ٣٠) ” اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ ان کی اپنی باتیں ہیں وہ ان لوگوں جیسی باتیں کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا ” اللہ“ انہیں غارت کرے کہ یہ کدھربہکائے جارہے ہیں۔“ عیسائیوں کی یا وہ گوئی : ایرانیوں اور یہودیوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر عیسائی کہتے ہیں کہ ” اللہ“ مریم اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ملا کر خدا کی خدائی مکمل ہوتی ہے جسے وہ تثلیث کا نام دیتے ہیں۔ ان کے عقیدے کی یوں تردید کی گئی ہے : (لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰیہ النَّارُ وَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ) (المائدۃ: ٧٢) ” بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ہی تو ہے جو مریم کا بیٹا ہے، حالانکہ مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شرک کرے یقیناً اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والا نہیں۔“ اہل مکہ کی کذب بیانی : (اَمْ خَلَقْنَا الْمَلآءِکَۃَ اِِنَاثًا وَہُمْ شَاہِدُوْنَ۔ اَلَا اِِنَّہُمْ مِّنْ اِِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ وَلَدَ اللّٰہُ وَاِِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ۔ اَاَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ) ( صافات : ١٥٠ تا ١٥٢) کیا ہم نے ملائکہ کو عورتیں بنایا ہے اور یہ اس وقت موجود تھے۔ سُن لو دراصل یہ لوگ جھوٹی باتیں کرتے ہیں۔ کہ ” اللہ“ اولاد رکھتا ہے یقیناً یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹوں کی بجائے بیٹیاں پسند کرلیں ہیں؟“ کلمہ پڑھنے والوں کی زبان درازی : دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص کروڑوں کی تعداد میں کلمہ پڑھنے والے حضرات یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ذات کے اعتبار سے ” اللہ“ کے نور کا حصہ ہیں اور یہی لوگ فوت شدگان کو خدا کی خدائی میں شریک سمجھتے ہیں یہاں تک کہ صوفیائے کرام نے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کا عقیدہ اپنا رکھا ہے۔ وحدت الوجود کا معنٰی ہے کہ کائنات کی شکلیں مختلف ہیں مگر حقیقت میں وہ سب ” اللہ“ ہیں۔ اس کے لیے بےدین صوفی ہمہ اوست کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ وحدت الشہود کا نظریہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا الگ وجود ہے اور کائنات اس کا پرتو ہے وہ اس کے لیے ہمہ از اوست کے الفاظ استعمال کرتے ہیں یعنی سب کچھ اسی سے نکلا ہے۔ اسی عقیدے کا تسلسل ہے کہ مساجد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں ” یا نور اللہ“ کے الفاظ کہے جاتے ہیں۔ (وَجَعَلُوْا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءًا اِِنَّ الْاِِنسَانَ لَکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ) (الزخرف : ١٥) ” اس کے باوجود لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان واضح طور پر ناشکرا ہے۔“ (وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ باللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمْ مُّشْرِکُوْنَ) (الیوسف : ١٠٦) ” اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان لانے کے باوجود وہ شرک کرنے والے ہوتے ہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ کسی کو اللہ کا بیٹا یا جز قرار دینا سب سے بڑا گناہ اور جرم ہے۔ (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا۔ لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا۔ تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا۔ اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا۔ وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (مریم : ٨٨ تا ٩٢) ” وہ کہتے ہیں کہ رحمٰن کی اولاد ہے۔ بہت ہی بیہودہ بات ہے جو تم لوگ کہہ رہے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اس بات پر کہ انہوں نے رحمٰن کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ رحمان کی شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے۔“ ” اللہ“ اپنی ذات، صفات، عبادت اور حکم میں کسی شریک کو پسند نہیں کرتا : تمام انبیاء اور نبی آخر الزّمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعوت تھی اور ہے کہ الٰہ نہ دو ہیں نہ تین اور نہ اس سے زیادہ۔ الٰہ صرف ایک ہے نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور اس کی صفات میں کوئی شریک اور نہ اس کا کوئی ہم مثل ہے، مشرکین نے اپنی طرف سے محض نام رکھ لیے ہیں۔ اس بنا پر کسی کو داتا کہتے ہیں، کسی کو دستگیر، مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حکم یہ ہے کہ اسے ایک مانو اور صرف اسی ایک کی عبادت کرو اور اسی کا حکم تسلیم کرو۔ (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ) (الشوریٰ: ١١) ” کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔“ (مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ) (الیوسف : ٤٠) ” تم چند ناموں کے سوا عبادت نہیں کرتے۔ جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ (وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآءِہٖ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) (الاعراف : ١٨٠) ” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں سو اسے انہی کے ساتھ پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں صحیح راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں انہیں جلد ہی اس کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔“ (وَ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا) (النساء : ٣٦ ) ” اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔“ (قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) (الکہف : ١١٠) ” اے نبی فرمادیں میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔“ (مَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا) (الکھف : ٢٦) ” نہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔“