سورة الاخلاص - آیت 2

اللَّهُ الصَّمَدُ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

اللہ ہی بے نیاز ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اَللّٰہُ الصَّمَدُ“ اللہ بے نیاز ہے اللہ تعالیٰ کی ” اَحَدْ“ کی صفت میں توحید کی تینوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ تاہم تفصیل کے لیے الصّمد اور دوسری صفات کا ذکر کیا گیا ہے بالفاظ دیگر یہ صفات صفت ” اَحَدْ“ کی تفصیل ہیں۔ اہل زبان نے الصّمد کے بہت سے معانی ذکر کیے ہیں، تمام معانی کا خلاصہ یہ ہے۔ ١۔ الصّمد ایسی چٹان یا ذات جس کی مشکل کے وقت پناہ لی جائے۔ ٢۔ الصّمد وہ ذات جس میں کسی قسم کا خلا اور ضعف نہ ہو۔ ٣۔ الصّمد ایسی ذات جس کے وجود سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو اور نہ کوئی چیز داخل ہوتی ہو۔ ٤۔ الصّمد سے مراد ایسا سردار جو ہر اعتبار سے کامل اور اکمل ہو اور مشکل کے وقت اس کا سہارا لیا جائے۔ ٥۔ الصّمد وہ ذات جس کے سب محتاج ہوں اور وہ کسی کی محتاج نہ ہو۔ مذکورہ بالا معانی کو سامنے رکھتے ہوئے مفسرین کی غالب اکثریت نے الصّمد کا معنٰی بے نیاز کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہر اعتبار سے بے نیاز ہے۔ بے نیاز کا یہ معنٰی نہیں کہ کہ اسے اپنی مخلوق کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ بے نیاز کا معنٰی ہے کہ وہ غنی ہے اور پوری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ اگر ساری مخلوق مل کر بغاوت کردے تو اس کی ذات اور بادشاہت کو رائی کے دانے کے برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ اگر ساری مخلوق اس کی تابع فرمان ہوجائے تو اس کی بادشاہت میں اضافہ نہیں ہوسکتاکیونکہ وہ الصّمد ہے۔ الصّمد کا معنٰی ایسی ذات جو کسی کی محتاج نہ ہو اور باقی تمام اس کے محتاج ہوں جب وہ کسی کا محتاج نہیں اور باقی سب اس کے محتاج ہیں تو پھر عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے۔ جس کا صاف معنٰی ہے کہ وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے لہٰذا اسی ایک کی عبادت کرنی چاہیے یہی توحید الوہیّت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اس لیے ” اَللّٰہُ الصَّمَدُ“ میں دوسرے معبودوں کی نفی پائی جاتی ہے۔ (وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) (الانبیاء : ٢٥) ” ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں سو تم میری ہی بندگی کرو۔“ (وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْہُمْ مَّنْ ہَدَی اللّٰہُ وَ مِنْہُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْہِ الضَّلٰلَۃُ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَِیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ) (النحل : ٣٦) ” اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور کچھ وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ پس زمین میں چل، پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔“ (لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخْرٰی قُلْ لَّآ اَشْہَدُ قُلْ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ) (الانعام : ١٩) فرما دیجیے میں یہ گواہی نہیں دیتا فرما دیجیے وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اور بے شک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک ٹھہراتے ہو۔“