سورة الكافرون - آیت 1

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

کہہ دے اے کافرو!

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورۃ الکوثر میں حوض کوثر اور خیر کثیر کی خوشخبری دی گئی جس کا صاف معنی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں اس لیے کفار کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ توحید اور شرک، کفر اور اسلام کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اہل مکہ نے نبوت کے ابتدائی دور میں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر خاص توجہ نہ دی لیکن جوں ہی آپ کی دعوت کے اثرات پھیلنے لگے تو مکہ کے سردار چوکس ہوئے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی دعوت آگے نہ بڑھ سکے، اس مقصد کے لیے انہوں نے آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کو زدّ وکوب کا نشانہ بنایا۔ لیکن نوجوان طبقہ آپ کی دعوت کی طرف اس حد تک متوجہ ہوا کہ مکہ میں شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس میں دوچار نوجوان مسلمان نہ ہوئے ہوں، یہاں تک کہ ابوجہل کے دوبھانجے بھی مسلمان ہوگئے۔ (سیرت الامین : محمد رفیق ڈوگر) دعوت کی تیز رفتاری نے اہل مکہ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ تشدد کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے انہوں نے کئی مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مذاکرات کیے۔ ایک موقع پر آپ کے چچا ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے ساتھ مصالحت کا راستہ اختیار کرے۔ جناب ابوطالب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلا کر صورت حال سے آگاہ کیا اور فرمایا کہ بھتیجے میں بوڑھا ہوگیا ہوں اس لیے اکیلا سرداران قریش کے خلاف نہیں لڑ سکتا جس کے جواب میں نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَا عَمِّ لَوْ وَضَعَتِ الشَّمْسُ فِیْ یَمِیْنِیْ وَالْقَمَرُ فِیْ یَسَارِیْ مَا تَرَکْتُ ہٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰی یُظْہِرَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی اَوْ اأہْلَکَ فِیْ طَلْبِہٖ) (سیرت ابن اسحاق : باب مانال اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے میرے چچا! اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں پر چاند لا کر رکھ دیں پھر بھی میں اس کام سے باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب کردے یا میں اس دین کی دعوت دیتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔“ اہل مکہ نے ولید بن مغیرہ کے ذریعے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر آپ دولت چاہتے ہیں تو ہم آپ کے حسب منشا دولت پیش کرتے ہیں، اگر آپ سرداری کے منصب پر فائز ہونا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو مکہ کا بالاتفاق سردار مانتے ہیں اگر آپ کسی خاندان میں شادی کے خواہش مند ہیں تو آپ کی یہ خواہش بھی پوری کردی جائے گی۔ ایک موقعہ پر انہوں نے یہ درخواست کی کہ ہم ایک سال آپ کے الٰہ کی عبادت کریں گے اور دوسرے سال آپ ہمارے الہٰوں کی عبادت کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس کا آغاز لفظِ ” قُلْ“ سے کیا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان سے دو ٹوک الفاظ میں فرما دیں کہ اے توحید خالص کا انکار کرنے والو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جس رب کی میں عبادت کرتا ہوں تم اس کی عبادت نہیں کرتے، میں ان کی عبادت کرنے والا نہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں لہٰذا تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ وہ جِدّت پسند لوگوں نے ان الفاظ کا بالکل ہی الٹ مفہوم لیا ہے، اپنی جِدّت پسندی کی وجہ سے اس آیت کا یہ معنٰی کرتے ہیں کہ آپس میں لڑنے کی بجائے ہر کوئی اپنے اپنے دین پر رہے، اس جِدّت پسندی کو ہر دور میں مختلف الفاظ دیئے جاتے ہیں کچھ دانش ور کہتے ہیں کہ جہاں کوئی لگا ہے ٹھیک لگا ہے اسے اپنی جگہ پر لگا رہنے دو۔ سرکاری حلقوں میں ایک عالم دین کی یہ بات بہت مقبول ہے کہ ” اپنا مذہب چھوڑو نہیں دوسروں کو چھیڑو نہیں“ اس سورت میں واضح کردیا گیا ہے کہ کفر اور اسلام، شرک اور توحید کا ملاپ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بظاہر الفاظ کا تکرار پایا جاتا ہے لیکن عربی گرامر کے اعتبار سے ان الفاظ کا ترجمہ کیا جائے تو پہلی دوآیات میں حال اور مستقبل کے حوالے سے بات کی گئی ہے اور اس سے اگلی دو آیات میں ماضی کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اے لوگو! جنہوں نے توحید خالص اور میری رسالت کا انکار کیا ہے وہ سن لیں ! کہ نہ میں نے ماضی میں تمہارے الہٰوں کی عبادت کی ہے اور نہ ہی مستقبل میں ان کی عبادت کروں گا۔ ٢۔ امام شوکانی نے اپنی تفسیر میں اس بات کو ترجیح دی ہے کہ جس طرح بعض سورتوں میں تاکید کے لیے بعض مضامین میں تکرار پایا جاتا ہے یہاں بھی تکرار کے لیے یہ بات کہی گئی ہے کہ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں۔ امام موصوف ان الفاظ کی دوسری توجیہات کو تکلف سمجھتے ہیں۔ ٣۔ بخاری شریف میں ” لَا اَعْبُدُمَاتَعْبُدُوْنَ“ کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے (وَلاَ أُجِیبُکُمْ فیمَا بَقِیَ مِنْ عُمُرِ) (باب : سورۃ قَلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ) ” میں زندگی بھر تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا۔“ اور ” وَلَا اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَا اَعْبُدُ“ سے مراد وہ کافر لیے گئے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا) (المائدۃ: ٦٤) ” اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو سرکشی اور کفر میں ضرور بڑھا دے گا۔“ (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ) (البقرۃ: ١٨) ” بہرے، گونگے، اندھے ہیں پس وہ نہیں پلٹتے۔“ مسائل ١۔ کفر پر پکے رہنے والوں کو کھل کر یہ کہہ دینا چاہیے کہ میں ان کی عبادت نہیں کرتا اور نہ کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ ٢۔ اے کافرو! تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین سے علیحدگی کا اعلان : ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : ٧٨) ٢۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ہم تم سے اور تمھارے باطل معبودوں سے بری الذمہ ہیں۔ (الممتحنہ : ٤) ٣۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔ (الانعام : ١٤) ٤۔ ھود (علیہ السلام) نے فرمایا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی بنالوکہ میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : ٥٤ ) ٥۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : ١٠٨ ) ٦۔ فرما دیجیے ” اللہ“ ایک ہے بے شک میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : ١٩ ) ٧۔ بے شک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں۔ (التوبہ : ٣ )