سورة العصر - آیت 1

َالْعَصْرِ

ترجمہ عبدالسلام بھٹوی - عبدالسلام بن محمد

زمانے کی قسم!

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : اللہ تعالیٰ نے التکاثر کے آخر میں بتلایا ہے کہ ہر وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھائے گا جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دے گا اس سے ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا مگر اس کے باوجود انسان نقصان کا سودا کیے ہوئے ہے۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ عربی زبان میں واؤ کا حرف قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس چیز کی قسم اٹھاتا ہے لازم نہیں کہ وہ چیز دوسری چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہو۔ قسم اٹھانے کا بنیادی مقصد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جس چیز کے لیے قسم اٹھائی جاتی ہے تاکہ سننے والا اس بات کی اہمیت اور فرضیت کو سمجھ سکے۔ یہاں زمانے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے قسم اٹھائی گئی ہے۔ ” والعصر“ زمانے کی قسم ! زمانہ کا لفظ تین اوقات کا احاطہ کرتا ہے۔ جو وقت گزر گیا، جو گزرہا ہے اور جو آنے والا ہے اسے ماضی، حال اور مستقبل کہا جاتا ہے۔ اگر زمانے سے مراد جزوی طور پر ماضی لیا جائے تو معنٰی ہوگا کہ اے انسانو! جو وقت گزر گیا ہے وہ واپس نہیں آئے گا اس لیے اپنے حال کا خیال رکھو۔ کیونکہ حال کو پکڑے بغیر کوئی فرد اور قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ زمانے کا معنی مستقبل لیا جائے تو یہ مفہوم لینے کی گنجائش ہے کہ اے انسان! تجھے کیا خبر! کہ مستقبل تجھے حاصل ہوگا یا تو اس سے پہلے ہی اٹھا لیا جائے گا۔ زمانے کی یہ تفسیر سامنے رکھی جائے تو اس کا ایک ایک لمحہ لمحہ قیمتی اور یہ انسان کاسب سے بڑا سرمایہ ہے اس لیے صحابہ کرام (رض) وقت کو سونے اور چاندی سے زیادہ گراں قدر سمجھتے تھے۔ (رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ التَّوْبَۃِ) ” العصر“ کا دوسرامعنٰی نماز عصر بھی لیا گیا ہے۔ نماز عصر دن کی آخری نماز ہوتی ہے اس لیے نماز عصر کی خاص فضیلت اور فرضیت بیان کی گئی ہے۔ (حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ) (البقرۃ: ٢٣٨) ” نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص درمیانی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزہو کر کھڑے ہوا کرو۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُولَ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ الَّذِی تَفُوتُہُ صَلاَۃُ الْعَصْرِ کَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلَہُ وَمَالَہُ) (رواہ البخاری : کتاب مواقیت الصلاۃ، باب إثم من فاتتہ العصر) ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کہ جس کی نماز عصر ضائع ہوگئی گویا اس کی تمام دن کی کمائی غارت ہوگئی۔“ العصر کی قسم اٹھا کر یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ جس طرح دن کا آخری حصہ عصر کے وقت پر مشتمل ہے اسی طرح ہی دنیا کی زندگی آخری دور میں داخل ہوچکی ہے۔ جس طرح عصر کے بعد سورج کا غروب ہونا یقینی ہے اسی طرح دنیا کا خاتمہ اور قیامت کا آنا یقینی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اِنَّما اَجَلُکُمْ فِیْ اَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْاُمَمِ مَابَیْنَ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ اِلٰی مَغْرِبِ الشَّمْسِ وَاِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ الْیَھُوْدِ وَالنَّصٰرٰی کَرَجُلِنِ اِسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ مَنْ یَّعْمَلُ لِیْ اِلٰی نِصْفِ النَّھَارِ عَلٰی قِیْرَاطٍ قِیْرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْیَھُوْدُ اِلٰی نِصْفِ النَّھَارِ عَلٰی قِیْرَاطٍ قِیْرَاطٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ یَّعْمَلُ لِیْ مِنْ نِصْفِ النَّھَارِ اِلٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِ عَلٰی قِیْرَاطٍ قِیْرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارٰی مِنْ نِصْفِ النَّھَارِاِلٰی صَلٰوۃِ الْعَصْرِعَلٰی قِیْرَاطٍ قِیْرَاطٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ یَّعْمَلُ لِیْ مِنْ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ اِلٰی مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلٰی قِیْرَاطَیْنِ قِیْرَاطَیْنِ اَ لَا فَاَنْتُمُ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ مِنْ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ اِلٰی مَغْرِبِ الشَّمْسِ اَ لَا لَکُمُ الْاَجْرُ مَرَّتَیْنِ فَغَضِبَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی فَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ عَمَلًا وَاَقَلُّ عَطَاءً قَال اللّٰہُ تَعَالٰی فَھَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِّنْ حَقِّکُمْ شَیْءًا قَالُوْا لَا قَال اللّٰہُ تَعَالٰی فَاِنَّہٗ فَضْلِیْ اُعْطِیْہِ مَنْ شِءْتُ) (رواہ البخاری : باب الاجارۃ الیٰ نصف النہار) ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری مدت عمر، تم سے پہلے لوگوں کی مدت عمر کے مقابلے میں اتنی ہے جس طرح عصر کی نماز سے سورج غروب ہونے کا وقت ہے۔ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے کچھ مزدوروں کو کام پر لگایا۔ اس نے مزدوروں سے کہا ایک ایک قیراط پر میرے ہاں کون دوپہر تک مزدوری کرے گا؟ یہود نے دوپہر تک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کون دوپہر سے عصر تک ایک قیراط پر کام کرے گا؟ نصاریٰ نے دوپہر سے عصر تک ایک قیراط پر کام کیا پھر اس نے کہا کون شخص عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو قیراط پر کام کرے گا۔ جان لو وہ تم ہو جو عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کام کر رہے ہو، اور تمہارا ثواب دو گنا ہے۔ اس پر یہود و نصاریٰ ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا کام زیادہ ہے اور ہمیں مزدوری کم ملی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کیا میں نے تمہاری مزدوری سے کم دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ میرا انعام ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“ ( عَنْ شُعْبَۃَعَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بُعِثْتُ اَنَاو السَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ قَالَ شُعْبَۃُ وَسَمِعْتُ قَتَادَۃَیَقُوْلُ فِیْ قَصَصِہٖ کَفَضْلِ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَلَا اَدْرِیْ اَذَکَرَہُ عَنْ اَنَسٍٍٍ اَوْ قَالَہُ قَتَادَۃُ.) (رواہ البخاری : کتاب الرقاق) ” حضرت شعبہ، قتادہ سے وہ حضرت انس (رض) سے بیان کرتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے شعبہ کہتے ہیں میں نے قتادہ کو بیان کرتے ہوئے سنا جیسا کہ ان دونوں میں سے ایک انگلی کو دوسری پر بر تری حاصل ہے شعبہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں یہ بات انہوں نے حضرت انس (رض) سے بیان کی ہے یا قتادہ کی اپنی بات ہے۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہٗ اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ وَصِحَّتِکَ قَبْلَ سَقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفِرَاغَکَ قَبْلَ شُغُلِکَ وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ) (رواہ الحاکم) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے۔ فرمایا پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، خوشحالی کو تنگدستی سے پہلے فارغ وقت کو مصروف ہونے سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔“ جس بات کی قسم اٹھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے انسان تو نقصان میں جارہا ہے۔ نفع کے مقابلے میں نقصان کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ چاہیے تو یہ تھا کہ انسان وقت کی اہمیت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نفع حاصل کرتا لیکن اس نے اس وقت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال لیا ہے۔ اگر انسان خسر کے لفظ پر غور کرے تو اسے یقین ہوجائے گا کہ واقعی وہ نقصان میں جارہا ہے، سب سے پہلے ہر انسان اپنی عمر پر غور کرے۔ کہنے کو تو آدمی یہی کہتا اور سمجھتا ہے کہ میں اتنے سال کا ہوگیا ہوں لیکن غور کرے تو اسے احساس ہوگا کہ اس نے زندگی کے جتنے سال شمار کیے ہیں وہ حقیقت میں اس کی زندگی سے منہا ہوچکے ہیں۔ کردار کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان جنم لیتا ہے تو گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔ جوں جوں بڑھا ہوتا ہے تو اس کے گناہوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح کتنے انسان ہیں جواعمال کے اعتبار سے خسارے میں ہوتے ہیں اور اسی حالت میں فوت کرلیے جاتے ہیں۔ ہمارے رب نے زمانے کی قسم کھا کر ہمیں توجہ دلائی ہے کہ اے انسان! تو ہر لمحہ خسارے میں پڑا جارہا ہے، تجھے اس سے بچنے اور نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے، بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ انسان کو نقصان کی بجائے فائدے میں دیکھنا چاہتا ہے۔ فائدہ حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لیے چار صفات کا ہونا ضروری ہے۔ یہی چار صفات پورے دین کا خلاصہ ہیں۔ یہ وہ صفات ہیں کہ اگر ان پر عمل کرنے کا حق ادا کیا جائے توانسان میں ہرقسم کے اوصاف حمیدہ پیدا ہو سکتے ہیں ان کو اپنانے سے انسان نقصان کی بجائے دنیا اور آخرت میں فائدے میں رہے گا وہ چار صفات یہ ہیں۔ ١ یمان : تمام اہل علم اور صاحب ایمان لوگوں نے ایمان کی یہ تعریف کی ہے۔” اقرار باللّسان، تصدیق بالقلب اور عمل صالح“ گویا کہ ایمان تین باتوں پر مشتمل ہے۔ کوئی شخص ان میں سے ایک بات چھوڑ دے تو وہ ایماندار نہیں رہے گا، اس لیے قرآن مجید نے رسمی ایمان کی بجائے حقیقی اور کامل ایمان پرزوردیا ہے۔ (یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا باللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ یَّکْفُرْ باللّٰہِ وَ مَلٰٓءِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) (النساء : ١٣٦) ” اے ایمان والو! اللہ، اس کے رسول اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے اس نے نازل فرمائی ہیں، جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کا انکار کرے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑے گا۔“ (قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَاِِنْ تُطِیعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْءًا اِِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ۔ اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُوْلٰٓءِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ) (الحجرات : ١٤، ١٥) ” بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ان سے کہو تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا، اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تو اللہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرے گا، یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ حقیقت میں مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں، پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور جو اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، وہی ایمان میں سچے ہیں۔“ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ) (البقرۃ: ٢٠٨) ” اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو کیونکہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ (عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَاد الشَّعْرِ لاَ یُرٰی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الإِیمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللَّہِ وَمَلاَءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ) (رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ ) ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک سیاہ بالوں والا آدمی سفید کپڑوں میں ملبوس جس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا وہ آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے عرض کی مجھے ایمان کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔“ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: ایمان اور صالح اعمال کا آپس میں اس قدر گہرا اور مضبوط تعلق ہے کہ جس قدر ایمان مضبوط ہوگا اسی قدر صالح اعمال کرنے کا جذبہ اور اخلاص پیدا ہوگا۔ اس لیے قرآن مجید نے ایمان کو ایک شجر کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ درخت کا بیج جتنا صحت مند ہوگا اتنا ہی اس سے صحت مند اور مضبوط پودانکلے گا۔ اس لیے رئیس المحدثین حضرت امام بخاری (رض) نے اس پر بڑی تفصیلی بحث کی اور درجنوں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ایمان کے بغیر عمل صالح اور صالح عمل کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ (اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُہَا فِی السَّمَآءِ تُؤْتِیْٓ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا وَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَال للنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ) (ابراہیم : ٢٤، ٢٥) ” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال بیان فرمائی ہے، جو ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں، وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اور ” اللہ“ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ عمل صالح سے مراد سب سے پہلے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان ہیں۔ عمل صالح کو قرآن مجید نے ” اَلْبِرُّ“ کے نام سے بھی بیان کیا ہے۔ ” نیکی صرف مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں نہیں۔ حقیقتاً نیکی یہ ہے جو اللہ، قیامت کے دن، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان رکھنے والے۔ جو لگ ” اللہ“ کی محبت کے لیے مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دیں، غلاموں کو آزاد کریں نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کریں، اپنے وعدے پورے کریں، تنگدستی اور لڑائی کے وقت صبر کریں، یہی لوگ سچے اور یہی پرہیزگار ہیں۔“ (البقرۃ: ١٧٧) وَتَوَاصَوْ ا بالْحَقِّ: ” الحق“ سے مراد وہ سچائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی راہنمائی کے لیے انبیاء ( علیہ السلام) کے ذریعے نازل فرمائی ہے۔ اب اس سے مراد قرآن مجید اور حدیث رسول ہے جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں ان پر فرض ہے کہ وہ اپنی استعداد کے مطابق اس حق پر عمل کرتے ہوئے اور اس کی ایک دوسرے کو تبلیغ کرتے رہیں۔ کیونکہ اس کا بنیادی تقاضا ہے کہ جو آدمی حق کو حق سمجھ کرقبول کرچکا ہے اس کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اسے اپنی ذات تک محدود رکھے اسی لیے حکم ہے : ” تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے‘ نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔“ (آل عمران : ١٠٤) (عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال الدِّین النَّصِیحَۃُ قُلْنَا لِمَنْ قَالَ لِلَّہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَلأَءِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَعَامَّتِہِمْ) (رواہ مسلم : باب بَیَانِ أَنَّ الدِّین النَّصِیحَۃُ) ” حضرت تمیم داری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دین نصیحت ہے تمیم داری (رض) کہتے ہیں ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس کے لیے؟ آپ نے فرمایا اللہ، اس کی کتاب، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے ائمہ اور عام لوگوں کی۔“ ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے برائی کو دیکھا اور اس نے اسے اپنے ہاتھ سے ختم کیا تو وہ بری ہوگیا اگر اس میں برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں اور اس نے اسے اپنی زبان سے منع کیا وہ بھی بری ہوا۔ اس نے زبان سے روکنے کی طاقت نہ پائی مگر اس نے اسے اپنے دل سے برا سمجھا تو وہ بھی بری ہوگیا مگر یہ سب سے کمتر ایمان ہے۔“ (رواہ النسائی : باب تَفَاضُلِ أَہْلِ الإِیمَانِ، قال البانی صحیح) ” پہلی خرابی بنی اسرائیل میں یہ آئی تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا اور اس سے کہتا اللہ سے ڈر اور اپنی حرکات سے باز آجا۔ کیونکہ یہ کام تیرے لیے درست نہیں۔ جب دوسرے دن اس سے ملتا تو برا کام اسے اس کے ساتھ کھانے پینے اور بیٹھنے سے نہ روکتا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک دوسرے کے ساتھ دل ملا دیے۔ مزید فرمایا : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر داؤد اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی۔۔ پھر فرمایا : ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو اور برے کاموں سے منع کرو اور ظالم کے ہاتھ پکڑ کر اس کو حق کی طرف اس طرح جھکاؤ گے جیسا اسے جھکانے کا حق ہے اور اس کو حق پر ٹھہراؤ جیساکہ حق پر ٹھہرانے کا حق ہے۔“ (رواہ أبوداوٗد : کتاب الملاحم، باب الأمر والنھی) وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ: اہل لغت نے صبر کا معنٰی باندھنا اور روکنا لکھا ہے۔ شرعی اصطلاح میں صبر قوت برداشت‘ قوت مدافعت کو بحال رکھنے اور طبیعت کو شریعت کا پابند بنانے کا نام ہے۔ جو لوگ عسر یُسر میں اس بات پر قائم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں بغیرحساب کے جنت میں داخلہ فرمائے گا اور دنیا میں ان کی دستگیری کرے گا۔ (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ) (البقرۃ: ١٥٢) ” اللہ کی رفاقت اور دستگیری صبر کرنیوالوں کے لیے ہے۔“ (وَاسْتَعِیْنُوْا باالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ) (البقرۃ: ١٥٢) ” صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد طلب کیجیے۔“ (اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابِ) ( الزمر : ١٠) ” صبر کرنیوالوں کی جزاء حساب و کتاب کے بغیر جنت کا داخلہ ہے۔“ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ) (آل عمران : ٢٠٠) ” اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو اور ایک دوسرے کوتھامے رکھو اور جہاد کی تیاری کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ انسان نقصان میں جارہا ہے۔ ٢۔ نقصان سے بچنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایاجائے۔ ٣۔ جو لوگ ایمان لانے کے ساتھ صالح اعمال، ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کریں گے وہ نقصان سے بچ جائیں گے۔ تفسیربالقرآن ایمان اور اس کے بنیادی تقاضے : ١۔ غیب پر ایمان لانا۔ (البقرۃ: ١) ٢۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ: ٤) ٣۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ: ١٣٦) ٤۔ آخرت پر یقین رکھنا۔ (البقرۃ: ٤) ٥۔ پہلے انبیاء پر ایمان لانا اور ان میں فرق نہ کرنا۔ (آل عمران : ٨٤) ٧۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے درمیان فرق نہ کرنا۔ (النساء : ١٥١) ٨۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی اتباع کرنا۔ (آل عمران : ٣٢) ایمان کی تفصیل۔ (البقرۃ: ٢٨٥)